پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران میں موجودہ حالات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فریقین سے مذاکراتی عمل اپنانے کی اپیل کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے گہرے تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے ایران میں حالیہ سیاسی اور اقتصادی کشیدگی اور اس سے پیدا ہونے والے خطے میں خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ تمام تنازعات کا حل پُرامن طریقوں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہی ممکن ہے۔ کسی بھی فریق کی طرف سے جارحیت، یکطرفہ اقدامات یا طاقت کے بے جا استعمال سے نہ صرف مسائل مزید بڑھیں گے بلکہ خطے کا امن و استحکام بھی متاثر ہوگا۔
پس منظر
ایران میں گزشتہ برسوں میں داخلی اور علاقائی کشیدگی بڑھتی رہی ہے، جس میں امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تناؤ، معاشی پابندیاں، سیاسی بحران اور عوامی احتجاجی مظاہرے شامل ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی مسائل پیدا کیے ہیں۔ ایران کی معاشی مشکلات، توانائی کی قلّت، اور سیاسی دھڑوں میں تصادم، خطے کی سلامتی کے لیے فوری توجہ طلب ہے۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ فریقین تحمل، بردباری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے یا عالمی امن کے لیے خطرہ ہو۔ انہوں نے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ہی مستقل حل قرار دیا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، معاشی بحران، داخلی سیاسی تناؤ اور معاشرتی مسائل خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی اصولوں، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے اپنے اختلافات کا حل تلاش کریں۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی رائے میں، ایران میں استحکام خطے کے مجموعی امن اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران میں حالات جلد معمول پر آئیں گے، ملک داخلی انتشار اور بیرونی مداخلت سے بالا تر ہوگا، اور تمام فریق باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کریں گے۔