اپریل 2025 میں امریکہ کی جانب سے جاری کیا جانے والا ایگزیکٹو آرڈر، جسے علامتی طور پر “لبریشن ڈے” کا نام دیا گیا، عالمی تجارت کے لیے ایک واضح موڑ ثابت ہوا۔ اس فیصلے کے تحت تقریباً تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر بھاری محصولات عائد کیے گئے۔ بظاہر یہ اقدام امریکی معیشت کے استحکام کے لیے تھا، مگر درحقیقت اس نے اس عالمی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا جو دہائیوں سے اقدار، جمہوریت اور شراکت داری کے نام پر استوار تھا۔ اب تعلقات کی بنیاد اقدار نہیں بلکہ فوری مالی فائدہ اور سیاسی سودے بازی بنتی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں امریکی حکومت نے 2025 میں 264 ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا، جو 1991 کے بعد سب سے بڑا ٹیکس اضافہ ہے۔
اسی “ڈیل فرسٹ” سوچ کی تازہ مثال جنوری 2026 میں سامنے آئی، جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اس پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ یہ دراصل ثانوی محصولات ہیں، جن کا مقصد براہِ راست ایران نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین، بھارت اور ترکی جیسے ممالک کو اس فیصلے نے ایک مشکل سے دوچار کر دیا ہے: یا ایران کے ساتھ تجارت ترک کریں یا امریکی منڈی سے محروم ہو جائیں۔ اس اقدام سے واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اب تجارت کو محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اس نئی حکمت عملی میں سیکیورٹی تعاون کی تعریف بھی بدل چکی ہے۔ اب شراکت داری کا معیار مشترکہ اقدار یا طویل المدتی اتحاد نہیں بلکہ فوری سیاسی کامیابیاں ہیں۔ مارچ 2025 میں پاکستان کی جانب سے داعش خراسان کے ایک مطلوب رکن محمد شریف اللہ کی گرفتاری اور امریکہ کے حوالے کیے جانے کو واشنگٹن میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے پاکستان کو “غیر معمولی شراکت دار” قرار دیا اور پاکستانی مصنوعات پر عائد محصولات کم کر کے 19 فیصد کر دیے گئے۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ سیکیورٹی تعاون اب براہِ راست تجارتی مراعات سے جڑا ہوا ہے۔
ایک اور غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی اور نجی کاروباری مفادات کے درمیان لکیر دھندلا رہی ہے۔ پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل، جو صدر کے خاندان سے منسلک ایک کرپٹو کرنسی کمپنی ہے، کے درمیان تعاون اسی رجحان کی مثال ہے۔ جنوری 2026 میں پاکستان نے USD1 نامی ڈیجیٹل کرنسی کو ترسیلاتِ زر کے لیے آزمانے کا معاہدہ کیا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے، کیونکہ بیرونِ ملک پاکستانی سالانہ 36 ارب ڈالر سے زائد بھیجتے ہیں۔ اس شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو امریکی قیادت تک براہِ راست رسائی حاصل ہوئی، جو روایتی سفارتی عمل کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔
اس کے برعکس بھارت کی صورتحال اس نئی عالمی حقیقت میں اسٹریٹجک خودمختاری کے خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔ بھارت نے روس سے تیل خریدنے جیسے فیصلے اپنی داخلی معاشی ضروریات کے تحت کیے، مگر واشنگٹن نے اسے وفاداری سے انحراف سمجھا۔ نتیجتاً بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات 50 فیصد تک بڑھا دیے گئے۔ اب ایران کے ساتھ بھارت کی تجارت، جو 1.3 ارب ڈالر سے زائد ہے، مزید امریکی پابندیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ان اقدامات سے بھارتی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اور ہزاروں ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔
2025 اور 2026 کی یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ امریکہ کا دیرینہ اتحادی ہونا اب کافی نہیں رہا۔ آج واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے سیاسی لچک، فوری سودے بازی اور مالی فائدہ ضروری ہو چکا ہے۔ امریکہ عالمی تعلقات کے اصولوں کو ازسرِنو تشکیل دے رہا ہے، جہاں ادارہ جاتی شراکت داری کے بجائے وقتی مفادات کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اگرچہ یہ ماڈل قلیل مدت میں امریکہ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ امریکی ساکھ اور عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ موجودہ عالمی نظام میں، ایک دن کی دوستی اگلے دن تجارتی جنگ میں بدل سکتی ہے، اگر مفادات کا حساب صدر کے پلڑے میں بھاری نہ ہو۔