دہلی کی ایک عدالت نے کشمیری علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو دہشتگردی، دہشتگردوں کی مالی معاونت اور دہشتگرد تنظیم کی رکنیت کے الزامات سے بری قرار دیا، مگر سازش اور حمایت کے الزامات میں مجرم ٹھہرا دیا۔
دہلی کی عدالتی سماعت میں جج چندر جیت سنگھ نے طے کیا کہ انسداد غیر قانونی سرگرمی ایکٹ کے تحت دہشتگردی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔
عدالت نے آسیہ اندرابی کو سیکشن 20 (دہشتگرد تنظیم کی رکنیت)، سیکشن 17 (دہشتگردی کے مالی تعاون) اور سیکشن 121 (ریاست کے خلاف جنگ) کے تحت بری کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریکارڈ میں کوئی گواہ ایسا نہیں ہے جو ان کے کسی دہشتگرد عمل میں براہ راست ملوث ہونے کا ثبوت دے۔
عدالت نے اس نتیجے تک پہنچنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ اندرابی کی تقریریں، انٹرویوز اور سوشل میڈیا پوسٹس ایک مربوط منصوبے کی عکاسی کرتی ہیں، جو کشمیری علاقوں میں غیر قانونی قبضے، علیحدگی پسندی، ملیشیاؤں کی تعریف اور مزاحمت کی ترغیب دیتی ہیں۔
اسی مقدمے میں حریت رہنما فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے، جبکہ عدالت کی جانب سے سزاؤں کا اعلان 17 جنوری کو کیے جانے کی توقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت تھا، جہاں کشمیری حریت پسند خواتین کے خلاف فیصلہ سنایا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کو سیاسی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے اور اس کا تعلق کشمیر میں جاری صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ آسیہ اندرابی خواتین کی تنظیم ’دختران ملت‘ کی بانی ہیں، انہیں اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا اور تقریباً 8 سال سے حراست میں ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے مختلف مقدمات میں بھارت کی جیلوں میں قید ہیں۔
مشعال ملک کا ردعمل
مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ آسیہ اندرابی کی سزا کشمیری عورت کی غیرت پر حملہ ہے،آسیہ اندرابی ایک فرد نہیں، مزاحمت اور استقامت کی علامت ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مودی سرکار جیلوں اور کالے قوانین سے کشمیری عوام کا حوصلہ نہیں توڑ سکتی ۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ آسیہ اندرابی ایک فرد نہیں، مزاحمت اور استقامت کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات میں گرفتار کشمیری خواتین کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو اے پی اے قانون، آزادیٔ رائے اور حقِ خودارادیت دبانے کا ہتھیار ہے ،مودی حکومت یاد رکھے، کشمیری عورت کبھی نہیں جھکتی۔ مشعال حسین ملک نے کہا کہ ہر ظلم، ہر سزا کشمیریوں کے جذبے کو اور مضبوط کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ضمیر کی خاموشی کشمیری مظلومیت میں شریک ہے ۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ آسیہ اندرابی اور دیگر قیدی خواتین کی جدوجہد تاریخ بن رہی ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہد انصاف اور آزادی تک جاری رہے گی۔