بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امارتِ اسلامیہ افغانستان نے جرمنی میں اپنے سفارتی مشن میں تبدیلیوں کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت 2021 کے اقتدار میں تبدیلی سے پہلے بھیجے گئے 13 سفارت کاروں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے (اے آر ڈی) کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2024 سے اسلامی امارت نے جرمنی میں تعینات 13 سفارت کاروں کو واپس کابل طلب کر لیا ہے۔ اس اقدام کے بعد افغان سفارتی مشن میں صرف تین سفارت کار باقی رہ گئے ہیں۔
مزید تبدیلیوں کا امکان
ذرائع کے مطابق امارتِ اسلامیہ کی جانب سے جرمنی میں اضافی سفارت کار بھیجنے کے اقدامات زیر غور ہیں۔ ساتھ ہی وزارت خارجہ موجودہ چارج ڈی افیئرز (عارضی سفیر) کو تبدیل کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے۔
German media, citing ARD research, report that the Islamic Emirate has recalled 13 diplomats who were sent to Germany before the 2021 change, since November 2024, leaving only three diplomats in place.
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) January 17, 2026
The report adds that the Islamic Emirate is seeking to send additional… pic.twitter.com/HrJZXT76S5
وزارت خارجہ کا مؤقف
افغان وزارت خارجہ نے اب تک اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی سفارت کاروں کی واپسی یا سفارتی تبدیلیوں کی تصدیق کی ہے۔
سیاق و سباق
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری امارتِ اسلامیہ کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر مختلف مؤقف رکھتی ہے۔ جرمنی سمیت متعدد ممالک نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں احتیاطی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اسلامی امارت نے نومبر 2024 سے اب تک جرمنی میں تعینات 13 سفارت کاروں کو واپس بلا لیا ہے، جس کے بعد فی الحال جرمنی میں صرف تین افغان سفارت کار موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امارتِ اسلامیہ مزید سفارت کار بھیجنے اور سفیر تبدیل کرنے کی تجاویز پر غور کر رہی ہے، تاہم وزارت خارجہ کی جانب سے ابھی تک ان سفارتی تبدیلیوں پر کوئی رسمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ اقدامات افغانستان کے بین الاقوامی تعلقات میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جس پر بین الاقوامی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔