حکومت نے معیشت کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کیلئے نجی شعبہ سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں گروتھ لیڈ ایکسپورٹ کیلئے ہر قسم کی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بات وزارت کامرس کے وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں برآمدات کو بڑھانے کیلئے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں مقامی تجارتی تنظیموں کے علاوہ سرگودھا اور ملتان چیمبر کے عہدیداروں نے بھی آن لائن شرکت کی۔
وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ دو تین سال کے مقابلے میں معاشی حالات کافی بہتر ہیں لیکن مزید اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ آئندہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے پہلے مرحلہ پر عمل شروع ہو گا جس سے اِن کی مجموعی کارکردگی میں بہتر ی کے ساتھ ساتھ لائن لاسز میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت کامرس نے پچھلے سال جو اہم اقدامات اٹھائے تھے ان میں 2025-30ء کیلئے نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان بھی شامل تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ہمیں آئندہ 30سالوں کیلئے اپنی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں پانی اور بجلی کا استعمال کم ہو۔ انہوں نے آئی ٹی سیکٹر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس میں ترقی کے زبردست مواقع ہیں مگر ہمیں اُن سے فائدہ اٹھانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے حوالے سے بتایا کہ ایک میٹنگ میں ایس ایم ای اور زرعی فنانسنگ پر خاص طور پر بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بینکوں کے پاس ٹریلین روپے کا پورٹ فولیو ہے جس سے اِن شعبوں کو صرف 6فیصد سے بھی کم ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سٹیٹ بینک سے درخواست کر رہے ہیں کہ رعایتی اور آسان قرضوں کے سلسلہ میں ایس ایم ای سیکٹر کو خصوصی مراعات دی جائیں۔ انہوں نے ہنر مند افرادی قوت اور دیگر مسئلوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی اور یقین دلایا کہ بجٹ کی تیاری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اب ایف بی آر کی بجائے بجٹ وزارت خزانہ خود تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا فوکل پرسن مقررکر رہے ہیں۔
فیصل آباد چیمبر اور دیگر تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اِن کو اپنی سفارشات پہنچائیں تاکہ اُن پر غور کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے صنعتوں کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور کہا کہ اُن کے حل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے جن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سر فہرست پیداواری لاگت میں کمی، سستے سرمایے کی فراہمی، معاشی پالیسیوں کا تسلسل، نئی اور روایتی منڈیوں تک رسائی، برآمدی مصنوعات کے معیار میں بہتری،جدت اور امن وامان کی بہتری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات کئی سالوں سے جمود کا شکار ہے۔
تاہم ترسیلات زر کی وجہ سے ملکی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملی۔ لیکن یہ بات طے شدہ حقیقت ہے کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے صرف اور صرف برآمدات میں اضافہ درکار ہے۔ اس وقت ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.25 بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ ایک ریکارڈ اضافہ ہے ۔آخر میں نائب صدر انجینئرعاصم منیر، سابق صدور ڈاکٹر خرم طارق، شبیر حسین چاولہ، چوہدری محمد نواز، مزمل سلطان، ایگزیکٹو ممبر وحید خالق رامے، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین شہزاد حسین، آئی ٹی سیکٹر کے حماد عثمان اور دیگر ممبران نے سوال و جواب کی نشست میں حصہ لیا۔
آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے چیمبر کی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے خصوصی کالر پن لگائی اور شیلڈ پیش کی۔ وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال نے چیمبر کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے اور گروپ فوٹو بنوایا۔ اِس اجلاس میں نیشنل ٹیکس پالیسی کے ڈاکٹر نجیب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب محترمہ رافعہ سید نے بھی شرکت کی۔
دیکھیں: پاکستان اور ازبکستان کی اقتصادی شراکت داری، تجارتی ہدف دو ارب ڈالر مقرر