کابل میں ہونے والے حالیہ دھماکے کے بعد چین نے طالبان حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانا طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے طالبان حکام سے اہم مطالبات کیے ہیں، جن میں سب سے پہلے دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام چینی شہریوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ دوسرا افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ اور تیسرا حملے کی فوری تفتیش کر کے تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان میں موجود تمام غیر ملکی شہریوں کی حفاظت طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ چین دہشت گردی کی ہر شکل کی مخالف ہے اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد از جلد عدالت کے سامنے لایا جائے گا۔ تاہم چین کے مخصوص مطالبات کے حوالے سے انہوں نے کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔
𝗖𝗵𝗶𝗻𝗮 𝗖𝗮𝗹𝗹𝘀 𝗼𝗻 𝗧𝗮𝗹𝗶𝗯𝗮𝗻 𝘁𝗼 𝗧𝗿𝗲𝗮𝘁 𝗜𝗻𝗷𝘂𝗿𝗲𝗱, 𝗦𝗮𝗳𝗲𝗴𝘂𝗮𝗿𝗱 𝗖𝗵𝗶𝗻𝗲𝘀𝗲 𝗡𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻𝗮𝗹𝘀, 𝗮𝗻𝗱 𝗔𝗿𝗿𝗲𝘀𝘁 𝗮𝗻𝗱 𝗣𝘂𝗻𝗶𝘀𝗵 𝗧𝗵𝗼𝘀𝗲 𝗕𝗲𝗵𝗶𝗻𝗱 𝗞𝗮𝗯𝘂𝗹 𝗔𝘁𝘁𝗮𝗰𝗸 https://t.co/AFLKIWsG2o pic.twitter.com/zGXQChiF6r
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 20, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ سخت مؤقف اس کے افغانستان میں بڑھتی ہوئی معاشی دلچسپی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ چین افغانستان میں معدنی ذخائر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے متعدد منصوبے چلا رہا ہے اور اقتصادی تعاون کے وسیع معاہدوں میں شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان حکومت کے سامنے موجود سکیورٹی چیلنجز کو واضح کرتا ہے۔ داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کے باوجود گروپ مسلسل اہم حملے کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس سے غیر ملکی شہریوں اور سرمایہ کاری کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔