افغانستان کے وزیر برائے امر بالمعروف محمد خالد الحنفی نے حالیہ یونیورسٹی کی تقریب میں اپنے بیان کے ذریعے افغانستان میں مذہبی تشریحات کے ریاستی کنٹرول کے ایک نئے اور متنازعہ باب کا اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ذاتی ظاہری شکل کے حوالے سے سخت شرعی احکامات جاری کیے، بلکہ اس موقع پر مذہب کو ایک نفاذی اور اخلاقی پولیس کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی واضح مثال بھی پیش کی۔
ذاتی زندگی میں مذہبی مداخلت کا جواز
محمد خالد الحنفی نے اپنے بیان میں داڑھی رکھنے کو واجب قرار دیتے ہوئے اسے شریعت کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے تنقید کو “مذہب مخالف پروپیگنڈا” قرار دیا اور اختلاف رائے کو ایمان کی کمی سے تعبیر کیا۔ یہ رویہ طالبان کی اس وسیع تر حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت مذہب کو ذاتی عقیدے کے بجائے ریاستی پالیسی، ذاتی مفادات اور اجتماعی کنٹرول کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رہنمائی اور جبر میں فرق
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت ذاتی رازداری کا احترام کرتی ہے، لیکن عملی طور پر مذہبی دباؤ کے ذریعے اس رازداری کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ رہنمائی اور جبر کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر دھندلا کر دیا گیا ہے، تاکہ جبراً اطاعت کو ایک معمول بنا دیا جائے۔ طالبان کی بیان کردہ مذہبی کہانیاں ثقافتی تنوع کو غیر ملکی فساد کے طور پر پیش کرتی ہیں، جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔
طالبان اور مذہبی کارڈ
یہ بیانات کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں بلکہ طالبان کے نظامی رویے کی واضح عکاسی ہیں، جہاں مذہب کو مرکزیت دے کر اسے حکمرانی کا ایک طاقتور آلہ بنا دیا گیا ہے۔ امیر المؤمنین حبیب اللہ اخوندزادہ کے ہاتھ میں آخری مذہبی اختیار مرکوز ہے، جہاں اداروں یا جمہوری مشاورت کے بجائے فرامین کے ذریعے حکومت چلائی جا رہی ہے۔
شیخ الحدیث محمد خالد الحنفي د عبدالله ابن مسعود جامعې د افتاء او قضاء تخصص فراغت غونډه کې وویل: زموږ پالیسي روښانه ده، محتسبین مکلف دي، څو خلک د دیني چارو پلي کولو ته راوبولي او اسلامي شريعت پلي کړي. pic.twitter.com/OToNXuW3yg
— SAiFKHAiBARسیف خیبر (@SAiFKHAiBAR1718) January 21, 2026
محدود تعبیرات کا نفاذ
حبیب اللہ اسلام کی ایک محدود اور مسخ شدہ تعبیر نافذ کر رہے ہیں، جس میں مذہب کو رہنمائی، عدل یا ہمدردی کے بجائے محض کنٹرول اور دباؤ کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ قندھار اس نظام کا نظریاتی کمانڈ سینٹر بن چکا ہے، جہاں نمائندگی کے بجائے علمی نگرانی کی جاتی ہے۔ صوبوں میں قائم کردہ علماء کی کونسلیں بھی درحقیقت نظریاتی نگرانی کے آلے کے طور پر کام کرتی ہیں، جو براہ راست قندھار کو رپورٹ کرتی ہیں۔
علمی تنوع کا خاتمہ
اس نظام میں مذہبی تعبیر اوپر سے نافذ کی جاتی ہے، جس میں کثرت رائے، علمی بحث یا اسلامی روایت کے تاریخی سیاق و سباق کی کوئی گنجائش نہیں۔ صرف حنفی-دیوبندی تعبیر کو درست تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر اسلامی روایات کو خاموش یا دبا دیا جاتا ہے۔ مذہبی اطاعت خوف، دباؤ اور نگرانی کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، نہ کہ عوام کی رضامندی یا قائل کرنے سے۔
تعلیمی نظام کا نظریاتی استحصال
داخلی مذہبی اختلاف کو نافرمانی اور جرم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ علمی اختلاف کے طور پر۔ تعلیمی نظام کو براہ راست علمی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے اور اسے نظریاتی پروپیگنڈے کے لیے ایک وسیلہ بنا دیا گیا ہے۔
نظامی دباؤ اور معاشرتی خلا
اس ماڈل کے تحت حکمرانی غیر شفاف، من مانی اور معاشرے سے الگ ہو کر رہ گئی ہے۔ دباؤ کو نظامی شکل دے کر معاشرتی ڈھانچے کو اندر سے خالی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے افغان معاشرے کی سماجی و ثقافتی روایات پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔