پاکستان میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر گزشتہ کچھ عرصے سے ایک منظم مہم کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ریاست پاکستان، مسلح افواج اور قومی اداروں کے خلاف عدم اعتماد اور بدظنی پھیلانا ہے۔ یہ مہم نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تعاون اور خطے میں امن کے کردار کو بھی مجروح کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ فلسطین میں حماس کے خلاف کارروائی میں 59 ممالک عملی طور پر تعاون کر رہے ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کے ممالک پر مشتمل ہے، جن کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اور دہشت گرد گروہوں کے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔
پروپیگنڈے کا بے نقاب ہونا
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس اتحاد کے مقاصد اور شراکت دار ممالک کی فہرست واضح کر دی ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرتی ہے، اور ہر عالمی اتحاد میں شامل ہونا ضروری نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے بعض مخصوص حلقے، جو اکثر “پی ٹی آئی ٹرولز” کے نام سے جانے جاتے ہیں، اس عالمی تعاون کی نوعیت اور اہمیت کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ ان کی ترجیح پاکستان کی مسلح افواج اور ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلانا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی امن کی کوششوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بیانیے پاکستان کی خارجہ پالیسی، فوجی کاوشوں اور قومی سلامتی کے مفادات کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا اور درست معلومات کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔ صرف تعلیم یافتہ اور باخبر عوام ہی پاکستان دشمن بیانیوں کی حقیقت کو پہچان سکتی ہے اور بین الاقوامی تعاون کے مثبت اثرات کو سمجھ سکتی ہے۔
اس تناظر میں پاکستانی عوام اور میڈیا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کریں اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے والے بیانیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔