افغان طالبان میں مفادات، لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش ایک مسلسل عمل کی شکل اختیار کر گئی ہے، جس کی تفصیل طویل ہے۔ طالبان دھڑوں کی اندرونی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ملا ہیبت اللہ کے تقرر سے معاملات کو دیکھنا ضروری ہے۔ روزِ اول سے ہر طالبان امیر کی تمام طاقت، اختیار اور کنٹرول اس کے ذاتی مسلح گروپ پر منحصر رہا ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ کس کے مسلح گروپ میں کتنے لوگ شامل ہیں اور اس کے پاس فنڈز کتنے ہیں۔ ملا عمر کے دور میں ان کا بھی ایک ذاتی دستہ تھا، جو دوسروں سے تعمیل کرواتا تھا۔ اس کے بعد ملا اختر محمد منصور کا بھی اپنا گروپ تھا، جس کی وجہ سے وہ طالبان سٹرکچر کو کنٹرول رکھتے تھے، لیکن ملا منصور کے بعد امیر کا معاملہ طاقتور مسلح گروپوں کے درمیان وجہ تنازعہ بنا۔ خدشہ تھا کہ اگر کسی ایک کو امیر بنایا گیا تو دوسرے گروپ بغاوت کریں گے اور طالبان کا اتحاد بکھر جائے گا، ایسے میں طالبان کے باہر سے ایک ’’مرد دانا‘‘ کے مشورے پر شوری نے ایک ایسے شخص کو امیر منتخب کرنے کا فیصلہ کیا جس کا اپنا کوئی گروپ نہیں تھا اور نہ ہی اس کا کوئی عسکری پس منظر تھا۔
دلیل یہ دی گئی کہ وہ دیگر تمام گروپس کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے اور چونکہ ان کا اپنا مفاد نہیں ہوگا، کسی گروپ کو ان سے مسئلہ نہیں ہوگا، لہٰذا قرعہ فال کم گو اور تنہائی پسند ملا ہیبت اللہ کے نام نکلا، جو ایک مدرسہ میں شیخ الحدیث تھے۔ ملا عمر بھی ان کا احترام کرتے تھے، ان کا نہ صرف کوئی ذاتی دھڑا نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے عسکری گروپ سے بھی ان کا تعلق نہیں تھا، اس لیے انہیں غیر جانبدار اور ہردل عزیز قرار دے کر مذہبی تقدس کے ساتھ امیر بنایا گیا۔ ملا نے ایک شرط پر امارت قبول کی کہ شوری سمیت تمام کمانڈر حلف دیں کہ وہ امیر کی ہر حال میں مکمل اطاعت کریں گے اور ملا ہیبت اللہ بعد میں اپنا دھڑا قائم نہیں کریں گے۔ شوری سمیت تمام کمانڈروں نے یہ حلف اٹھایا اور دوہزار اکیس میں طالبان کی فتح تک یہ بندوبست کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔
حکومت میں آنے کے بعد قندھار اور حقانی گروپ سمیت دیگر دھڑوں کی کشمکش کو ہینڈل کرنے میں ملا ہیبت اللہ ناکام رہا، اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی داؤ پر لگنے لگے۔ کم گو اور تنہائی پسند ہیبت اللہ طالبان شوری اور کمانڈروں سے ملنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ جنگ کے دنوں میں اسے حکمت عملی سمجھا گیا، لیکن اقتدار آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جس پر لوگوں کو حیرت ہوئی۔ دنیا سے رابطہ صرف داماد ملاندا محمد ندیم اور اس وقت کے گورنر قندھار ملا یوسف وفا کے ذریعے ہوتا تھا، جو ہیبت اللہ کی حالات پر تشویش کو سمجھتے تھے۔ دونوں کا علمی یا جہادی پس منظر نہیں بلکہ سمگلنگ اور دیگر جرائم کی شہرت ہے، لہٰذا 2022 میں انہوں نے ہیبت اللہ کو قائل کیا کہ مسائل کا حل صرف اس میں ہے کہ وہ اپنی طاقت بڑھائے اور وفادار فورس قائم کرے۔ بعد میں وزیر انصاف اور چیف جسٹس ملا عبد الحکیم حقانی بھی شامل ہو گئے اور ان کے مشورے پر ہیبت اللہ نے پہلی بار ایرانی پاسداران کی طرز پر ’’سپیشل فورس برائے امیر المومنین‘‘ کے قیام پر مشاورت شروع کی۔
جون 2023 میں یہ معاملہ کابینہ اور شوری میں لایا گیا، اور 30 اکتوبر 2023 کو ہیبت اللہ نے ہلمند کے گورنر ملا عبد الاحد طالب کو اس فورس کا سربراہ مقرر کر کے 40 ہزار افراد کی فورس قائم کرنے کا ٹاسک دیا اور 60 ملین افغانی کا بجٹ بھی مختص کر دیا۔ تینوں ملاقات کنندگان، ملاندا، یوسف وفا اور حقیم، نے اس فورس میں حقانیوں اور شمال والوں کو الگ رکھنے کی کوشش کی، صرف قندھار اور ہلمند کے لوگوں کو شامل کیا گیا، جس پر حقانی گروپ اور شمال میں یہ سمجھا گیا کہ یہ فورس ہیبت اللہ کے مخالف گروپوں کو تباہ کرنے کے لیے قندھاریوں کی چال ہے، نتیجہ یہ نکلا کہ چند مقامی کرداروں کے سوا کسی نے تعاون نہیں کیا اور معاملہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بالآخر دسمبر 2024 میں ملا ہیبت اللہ نے نئی فورس قائم کرنے کا منصوبہ ترک کر کے بدری کور 313 کو اپنے لیے خصوصی فورس کا درجہ دے دیا اور ملا عبد الاحد طالب کا عہدہ ختم کر کے اسے قندھار کا پولیس چیف لگا دیا۔ یہ فورس پورے ملک میں آپریٹ کر سکتی ہے اور صرف ہیبت اللہ کو جواب دہ ہے، ملک کے تمام داخلہ و خارجہ کے پوائنٹس اسی کے کنٹرول میں ہیں اور کابل کی سکیورٹی بھی اسی کے پاس ہے۔
دسمبر 2024 کے بعد سے چن چن کر اس کے تمام عہدوں پر اپنے خصوصی وفادار لوگ تعینات کیے گئے اور حقانیوں کو خصوصی طور پر نکالا گیا۔ یہ فورس بنیاد ہے موجودہ طالبان کے اندرونی تنازعات کی، اور ملک میں ہر طرح کی غنڈہ گردی اسی کے ذریعے ہو رہی ہے۔ دیگر گروپ، بشمول قندھار گروپ، بظاہر متحد ہیں لیکن اندرونی طور پر تقسیم ہیں۔ حقانیوں کے مقابلے میں یہ لوگ متحد ہیں، لیکن ملا متقی، برادر اور صدر ابراہیم اپنے اپنے گروپس کو خفیہ طور پر منظم کر رہے ہیں۔ ہیبت اللہ کی فورس کو یوسف وفا، ندیم اور حکیم استعمال کر رہے ہیں۔ سب سے خطرناک اور پاکستان دشمن کردار ملا یوسف وفا ہے، جو بدری فورس میں کوئی عہدہ نہیں رکھتا مگر ہیبت اللہ کے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے اس فورس کو استعمال کرتا ہے۔ یوسف وفا، اصل نام ملا امین اللہ، ساری عمر چمن کے مہاجر کیمپ میں گزاری، اسلحہ اور ڈرگز کی سمگلنگ میں ملوث رہا، امریکیوں کے ساتھ بھی تعلقات رکھتا تھا اور طالبان کو قندھار و ہلمند کی سرحد پر سمگلنگ روٹس پر نقل و حرکت میں تعاون فراہم کرتا رہا، اسی وجہ سے ہیبت اللہ کے قریب ہوا اور طالبان حکومت آنے کے بعد قندھار کا گورنر مقرر ہوا۔ یوسف وفا کے خصوصی اختیارات کی وجہ سے سمنگان، جوزجان، سرائے پل اور فاریاب کے گورنر بھی ان کے ماتحت ہیں اور یہی شمالی افغانستان میں نمائندہ امیر یا مقامی امیر کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ سمگلنگ کی دولت اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کی وجہ سے قندھار کے چھوٹے بڑے طالبان کمانڈروں پر اس کا خاصا اثر ہے۔ ہیبت اللہ کی سکیورٹی بھی یوسف وفا کے قریبی لوگوں کے ذمہ ہے اور ملاقاتوں کو کنٹرول کرتا ہے۔
قندھاری گروپ کا دوسرا اہم کردار صدر ابراہیم ہے، نائب وزیر داخلہ، جس کا مدارس کا بڑا نیٹ ورک ہے۔ ایران میں وقت گزارا اور بھارتیوں کی نظر میں اہمیت حاصل کی۔ 2019 میں امریکہ سے مذاکرات کے دوران موقع سے فائدہ اٹھا کر ملاذاکر کے ساتھ اپنا دھڑا بنا کر ایران میں بیٹھ گیا اور ہیبت اللہ سے بغاوت کا اعلان کیا۔ 2021 میں طالبان حکومت آنے تک ایران میں رہا، بعد میں ایران کے دباؤ پر اسے اور ذاکر کو طالبان نے حکومت میں شامل کیا۔ مئی 2024 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران دہلی گیا، بھارت کو تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسی کے ذریعے طالبان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بنیاد رکھی گئی۔ اجیت دوول سے بھی قریبی تعلقات رکھتا ہے۔( جاری ہے)