خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب امن کمیٹی کے رکن اور مقامی سماجی شخصیت نور عالم محسود کے گھر شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جبکہ 7 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس کے مطابق دھماکہ نور عالم محسود کے گھر ان کے بھتیجے کی شادی کی تقریب کے دوران ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور تقریب میں موجود ایک کمرے کے اندر داخل ہوا، جہاں دھماکے کے باعث کمرے کی چھت منہدم ہو گئی۔ چھت گرنے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جاں بحق اور زخمی
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے مطابق دھماکے میں شدید زخمی ہونے والا ایک اور شخص اسپتال میں دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
سیکیورٹی اور ریسکیو کارروائیاں
واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کمانڈر وحید عرف جگری محسود
پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں کمانڈر وحید اللہ عرف جگری محسود بھی شامل ہیں، جو ماضی میں کالعدم ٹی ٹی پی کمانڈر حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے حکومت کے سامنے سرنڈر کیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے سرگرم رہے۔ جگری محسود گزشتہ ایک دہائی سے علاقے میں قائم امن کمیٹی سے وابستہ تھے، جس میں تقریباً 500
افراد شامل تھے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ردعمل
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان دھماکے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے فوری رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ کا بیان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور ذمہ داروں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ صوبائی حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
تحقیقات جاری
پولیس کے مطابق دھماکے کے محرکات، خودکش حملہ آور کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کے حوالے سے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک