افغان طالبان کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم رواداری کی جانب سے جاری کیا گیا طالبان کا نام نہاد کریمنل پروسیجر کوڈ درست اور اصلی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ قانون 17 رجب بمطابق 7 جنوری کو افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخطوں کے ساتھ نافذ کر دیا گیا ہے۔
دستاویز کی ساخت اور قانونی حیثیت
اصولنامہ جزائی کے نام سے پشتو زبان میں جاری کی گئی یہ دستاویز 59 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں ایک کور لیٹر، تین ابواب، دس ذیلی ابواب اور 119 دفعات شامل ہیں۔ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں اس دستاویز کو باقاعدہ قانون کا درجہ دیا گیا ہے اور تمام اداروں کو اس پر عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔

معاشرے کی چار طبقات میں تقسیم
نئے قانون کے تحت معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک ہی نوعیت کے جرم پر مختلف طبقات کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ علما کو سب سے اعلیٰ طبقہ قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے کسی جرم کی صورت میں صرف نصیحت کافی سمجھی گئی ہے اور کسی سخت سزا کا اطلاق نہیں ہوگا۔
دوسرا طبقہ معزز یا اشرافیہ کا ہے، جس میں قبائلی سربراہان، عسکری کمانڈرز اور دیگر بااثر افراد شامل ہیں۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو جرم کی صورت میں طلب کر کے سمجھایا جائے گا اور تنبیہ کی جائے گی، تاہم قید یا کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی۔
تیسرے طبقے کو متوسط طبقہ قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے جرم کی صورت میں قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ چوتھا اور آخری طبقہ عام لوگوں پر مشتمل ہے، جنہیں اسی جرم پر قید کے ساتھ ساتھ کوڑوں اور دیگر سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فقہی اور مذہبی دفعات
دستاویز کے مطابق فقہ کے طور پر صرف فقہ حنفی کو اسلام قرار دیا گیا ہے۔ دیگر فقہی مکاتب فکر کے پیروکاروں کو بھی فقہ حنفی تسلیم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ کسی دوسری فقہ پر عمل کرنے کی صورت میں دو سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 2 شق 8 کے تحت صرف فقہ حنفی کے پیروکاروں کو مسلمان قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر فرقوں بشمول شیعہ، اہل حدیث، اسماعیلی، سکھ اور ہندو کو مبتدع یعنی بدعتی قرار دیا گیا ہے۔
مخالفت اور توہین پر سزائیں
قانون کے تحت طالبان کی مخالفت کو بغاوت قرار دیا گیا ہے، جس کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ آرٹیکل 2 شق 11 کے مطابق طالبان مخالفین کو مفسد یعنی باغی قرار دے کر سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔
ملا ہیبت اللہ کی توہین پر 20 کوڑوں اور چھ ماہ قید کی سزا نافذ کی گئی ہے۔
خواتین اور خاندانی معاملات
نئے قانون کے تحت خواتین پر متعدد نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 34 کے مطابق بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر بار بار والد کے گھر جانا جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر بیوی اور رشتہ داروں کو دو ماہ قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

غلامی کی منظوری اور تعزیری سزائیں
دستاویز میں غلامی کو جائز قرار دیا گیا ہے اور غلام کی اصطلاح بار بار استعمال کی گئی ہے، جس سے غلامی کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 15 کے مطابق اگر کوئی جرم حدود کے دائرے میں نہ آئے تو تعزیری سزا دی جائے گی، چاہے مجرم آزاد ہو یا غلام۔
آرٹیکل 4 شق 5 کے تحت تعزیری سزا شوہر یا سرپرست بھی دے سکتا ہے، جبکہ حدود کی سزا امام دے گا۔ اسی شق کے مطابق بیوی کو شوہر اور غلام کو اس کا مالک سزا دے سکتا ہے۔
خود سزا دینے اور املاک کی تباہی کی اجازت
آرٹیکل 4 شق 2 کے تحت ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی مسلمان کو گناہ کرتے دیکھے تو خود سزا دے سکتا ہے۔ آرٹیکل 13 کے مطابق سیلون اور بیوٹی پارلرز کو فساد کی جگہ قرار دے کر تباہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
قتل اور دیگر سنگین دفعات
آرٹیکل 14 کے تحت امام کی اجازت سے غلط عقائد کا دفاع کرنے والوں کو قتل کرنا جائز قرار دیا گیا ہے، جبکہ قانون میں غلط عقائد اور امام کی واضح تعریف موجود نہیں، جس کے باعث اس شق کے غلط استعمال کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
آرٹیکل 24 کے مطابق مخالفین کی مبینہ خرابکارانہ سرگرمیوں کی اطلاع نہ دینے پر دو سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ آرٹیکل 40 کے تحت فساد کی محفل میں موجودگی کو، چاہے ارادی ہو یا غیر ارادی، شریک جرم قرار دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے خدشات
ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس نئے قانون میں موجود مبہم اور سخت دفعات انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور انصاف کے عالمی اصولوں کے منافی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس قانون کے تحت مخالف آوازوں، خواتین اور اقلیتوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک