قازقستان کے صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کو خطے میں اقتصادی اور جغرافیائی سیاست کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس دورے کا مرکزی نکتہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستان کے راستے سمندر تک رسائی فراہم کرنے والا ایک ممکنہ 7 ارب ڈالر کا ریلوے منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جو مکمل ہونے کی صورت میں پورے خطے کے تجارتی نقشے کو بدل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ریلوے منصوبہ قازقستان، ازبکستان اور افغانستان کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے پر مشتمل ہوگا، جس کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے گی۔ اس منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے توسیعی مرحلے سے بھی جوڑنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
دورۂ پاکستان کے دوران قازق صدر اور پاکستانی قیادت کے درمیان دوطرفہ تجارت، توانائی، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ملاقاتوں میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کی سمندر تک رسائی نہ صرف ان ممالک بلکہ پاکستان کے لیے بھی معاشی فوائد کا باعث بنے گی، کیونکہ پاکستان ایک علاقائی ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 7 ارب ڈالر کا یہ ریلوے منصوبہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط کرے گا۔ قازقستان جیسے توانائی اور معدنی وسائل سے مالا مال ملک کے لیے یہ راہداری تیل، گیس، گندم اور دیگر اشیاء کی برآمدات کو آسان بنا سکتی ہے، جبکہ پاکستان کو ٹرانزٹ فیس، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔
تاہم ماہرین اس منصوبے کے حوالے سے سکیورٹی، سیاسی استحکام اور علاقائی تعاون کو کلیدی چیلنجز قرار دے رہے ہیں، خصوصاً افغانستان کی صورتحال اس منصوبے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ باہمی مفادات اور علاقائی استحکام کے لیے ایسے بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
قازق صدر کے اس دورے کو پاکستان کی وسطی ایشیا کی جانب بڑھتی ہوئی سفارتی اور اقتصادی حکمتِ عملی کا اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں خطے کی تجارت اور رابطہ کاری کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک