صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں واقع ایئر اسٹرپ پر مقامی اہلکاروں اور قندھاری محافظ دستوں کے مابین شدید فائرنگ ہوئی، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے دوران ہوئی فائرنگ سے کسی جانی نقصان کی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
واقعے کی تفصیلات
مقامی ذرائع کے مطابق یہ کشیدگی ایئر اسٹرپ کی نگرانی کے اختیارات کے حوالے سے پیدا ہوئی۔ اطلاعات ہیں کہ قندھاری محافظ دستوں کے ایک گروپ نے جلال آباد ایئر اسٹرپ کے داخلی راستے پر اپنی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کی، جس پر مقامی محافظ دستوں نے انہیں روک دیا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں دونوں اطراف سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی۔
فوری انتظامی کاروائی
صوبائی گورنر کے دفتر اور مقامی کمانڈروں کی فوری مداخلت سے صورتحال قابو میں ہے۔ اور علاقے میں اضافی سکیورٹی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
عوامی ردعمل
ایئر اسٹرپ کے قریب واقع کچھ رہائشی علاقوں کے شہریوں نے فائرنگ کی آوازوں کے باعث خوف و ہراس کا اظہار کیا، تاہم سکیورٹی دستوں کی بروقت کارروائی سے عوام کو تسلی دلائی گئی۔
طالبان کا مؤقف
ننگرہار کے صوبائی ترجمان نے اس واقعے کو “انتظامی نوعیت کا معمول کا معاملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “صورتحال پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے اور ایئر اسٹرپ کا عملہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔” انہوں نے کہاہے کہ “یہ کوئی بڑا تصادم نہیں تھا بلکہ محض ایک فہم کی غلطی تھی جو فوری طور پر دور کر دی گئی۔”
علاقائی اثرات
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسے واقعات افغانستان میں مختلف گروہوں کے مابین اختیارات کی تقسیم کے حوالے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ نیز اس واقعے کے بعد طالبان انتظامیہ کے اندر گہری تقسیم بھی واضح ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مختلف علاقائی اور نسلی گروہوں کے مابین بہتر رابطہ کاری اور واضح کمانڈ ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت