امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

June 24, 2026

معروف برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار کا دعویٰ ہے کہ موساد نے سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر حملے کا مبینہ منصوبہ بنایا، جسے پاکستانی انٹیلی جنس نے بروقت ناکام بنا دیا۔

June 24, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ نورستان کے ضلع وایگل میں طالبان کے ٹھکانے پر رات گئے اچانک گوریلا حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائی میں طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔

June 24, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران 6 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

June 24, 2026

اقوام متحدہ میں پاکستان نے امن دستوں کے خلاف جرائم کے احتساب کے لیے قرارداد پیش کر دی، جسے 150 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

June 24, 2026

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کا ایک روزہ اہم دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہوں نے قیادت سے تعمیری ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان نے ایران کے میزائل پروگرام کی اصولی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

June 24, 2026

افغان عہدیدار کے سوشل میڈیا بیانات میں بی ایل اے کی حمایت، پاکستان کے شدید تحفظات

افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے
افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے

بی ایل اے کی حمایت کرنے والے افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش، افغان رہنما سراج الدین حقانی سے ملاقات کر رہے ہیں

February 2, 2026

پاکستانی حلقوں نے افغان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی مبینہ طور پر پاکستان مخالف اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر افغانستان کی نیشنل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبد الرحمن عطاش کے نام سے منسوب اکاؤنٹ سے پوسٹس نشر کی گئی ہیں، جن میں بلوچستان میں بی ایل اے کی کاروائیوں کی حمایت اور پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

تصاویر میں اعلیٰ سطحی روابط
ان پوسٹس کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر میں عبد الرحمن عطاش کو افغانستان کے مولوی عبدالغنی برادر اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، جو مبینہ طور پر ان کے حکومتی حلقوں میں قریبی روابط کی نشاندہی کرتی ہیں۔

پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے اس معاملے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان افغان حکومت کے کسی بھی عہدیدار کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت یا اس کی ترغیب دینے والے بیانات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف پاکستان کے خلاف واضح جارحیت ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بھی ہیں۔‘‘

بین الاقوامی تناظر میں
بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر خودمختار ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کی آماجگاہ بننے سے روکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی تمام ممالک پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں دہشت گرد گروہوں کو تعاون فراہم نہ کریں۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر افغان عہدیدار کی جانب سے یہ بیانات تصدیق شدہ ہوں تو یہ پاک۔ افغان تعلقات میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت ہے۔ سابق سفیر اور امورِ افغانستان کے ماہر رستم شاہ مومن کے مطابق ایسی اشتعال انگیز سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں۔

دیکھیے: بلوچستان اور بیانیے کی جنگ

متعلقہ مضامین

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

June 24, 2026

معروف برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار کا دعویٰ ہے کہ موساد نے سوئٹزرلینڈ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر حملے کا مبینہ منصوبہ بنایا، جسے پاکستانی انٹیلی جنس نے بروقت ناکام بنا دیا۔

June 24, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ نورستان کے ضلع وایگل میں طالبان کے ٹھکانے پر رات گئے اچانک گوریلا حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائی میں طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔

June 24, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران 6 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

June 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *