عدم اعتماد کی آواز اٹھی تو عمران خان نے دھمکی دی : مجھے نکالا گیا تو مزید ‘خطرے ناک’ ہو جاؤں گا ۔ سوال یہ ہے کہ ‘ خطرے ناک’ ہو جانے کے چاؤ پورے ہو گئے ہیں یا پیرِ مغاں کا شوق ابھی باقی ہے؟
دوسرے لوگ پانامہ کے مقدمے میں اقامہ پر تاحیات نا اہل ہوئے تو نازک مزاجوں نے منہ میں لڈو ٹھونس لیے لیکن اپنی باری ایک عدم اعتماد کیا آئی ، قافلہ انقلاب کے سارے پیادے نمناک ہو گئے۔ یہاں سے تحریک انصاف ‘خطرے ناک’ ہونا شروع ہوئی اور ایسی ‘خطرے ناک’ ہوئی کہ کسی جانِ ادا کی طرح بے باک ہی ہوتی چلی گئی۔
ان کا گمان تھا کہ الگوردم کی ہنر کاری اور ابلاغی پوسٹ ٹروتھ میں جو کمال انہیں حاصل ہے یہ اس کی بنیاد پر دن کو ااگر رات کہیں تو سورج کی روشنی گُل ہو جائے گی۔ چنانچہ مائنڈ گیم کی مہارت نے بیانیہ تراشا: ہمیں تو امریکہ نے نکلوایا ہے۔ جھوٹ کو تاج محل بنانے پر جو دسترس اس جماعت کو حاصل ہے وہ قابل رشک ہے مگر یہ بیانیہ پٹ گیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اسی امریکہ کے ٹرمپ سے عشاق عمران نے امیدیں باندھ لیں اور آستیںیں چڑھا چڑھا کر رجز پڑھے کہ ایک بار ٹرمپ انکل کو آنے دو پھر دیکھنا تم لوگ۔
سوشل میڈیا کی بے لگام قوت کا اتنا زعم تھا کہ کہ یہ سمجھ بیٹھے اس طوفان بد تمیزی سے سب کی زبان بندی کروا دی جائے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بد تہذیبی کے اس آسیب پر خود ان کے ممدوح اچکزئی صاحب نے بھی دہائی دینا شروع کر دی کہ ہم سب بہنوں بیٹیوں والے ہیں یہ کام بند کر دو۔
سوال کے راستے میں کلٹ آ جائے تو مسافت طویل تو ہو سکتی ہے ، سفر ختم نہیں ہوتا۔ سوال منزل پر پہنچا اور اس نے ذہنوں پر دستک دی کہ اگر امریکہ ہی انہیں نکالنے کی سازش میں ملوث تھا تو اوورسیز انقلابی جن کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے ، ایک آدھ مظاہرہ واشنگٹن یا نیو یارک میں امریکہ کے خلاف کیوں نہیں کر لیتے؟ ہیجان پیدا اکرنے کے لیے کیا پاکستان ہی آسان شکار نظر آتا ہے۔
ان کا گمان تھا ہم سڑکوں پر آ جائیں گےا ور ریاست مفلوج ہو جائے گی۔ آرمی چیف کی تعیناتی کا مسئلہ ہوا یہ سڑکوں پر آ گئے لیکن ان کا احتجاج تعیناتی کو نہ رکوا سکا۔ مقدموں میں عمران کی گرفتاری مطلوب ہوئی تو انہوں نے طوفان کھڑا کر دیا کہ کوئی مائی کا لال گرفتار کر کے دکھا دے، پھر گرفتاری بھی ہو گئی۔ اب آہ و زاری کا مرکزی نکتہ ملاقات ہے۔
طاقت کے زعم میں یہ 9 مئی کو ہر حد عبور کر گئے۔ گہرا کھیل تھا مگر یہ بھی ناکام ہوا۔ وار خطرناک تھا مگر اوچھا پڑا۔ نتیجہ یہ نکلا آدھے جیلوں میں پڑے ہیں اور باقی پارٹی سے ہی علحدہ ہو گئے ہیں یا خاموش ہیں۔ نہ وہ ابرار الحق کے ترانے سنتے ہیں نہ ان کا ‘نچنے نوں دل کردا’ ہے۔
انہیں زعم تھا کہ ہم سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور الگوردم کی مہارت سے ایسا بیانیہ کھڑا کریں گے کہ ریاست کی ‘کانپیں ٹانگ جائیں گی’ ، وہ بھی ناکام ہوا۔ یہ ساری چاند ماری اب کامیڈی بنتی جا رہی ہے۔ جیل ٹوٹ گئی، امریکہ کا فون آ گیا ، اڈیالہ کے دروازے اگلے ہفتے کھل جائیں گے ، خان نے بڑی گیم ڈال دی ، خان کا ماسٹر سٹروک ، ایسے تھم نیل پڑھ کر اب لوگ مسکرا دیتے ہیں ۔
اوورسیز کو دہائی دی کہ ملک میں پیسے نہ بھیجیں ، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ترسیلات زر کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔
بیرون ملک لابنگ کی گئی کہ حکومت کو دباؤ میں لایا جائے نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر پہلے سے بہت زیادہ باوقار اور موثر ہے۔
وکیلوں کا ایک جم غفیر لا کر پارٹی میں شامل کرایا گیا۔ نواز شریف کے وکیل کو سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا ۔اعتزاز احسن کا جونیئر چیئر مین بنا لیا گیا ۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وکیل سامنے ہوں گے تو عدالتیں انصاف کی بجائے تحریک انصاف کیا کریں گی لیکن انجام یہ ہوا کہ حلقہ انتخاب سے محروم وکیل تو اسمبلیوں میں پہنچ گئے لیکن خان صاحب ابھی تک اڈیالہ میں ہیں۔
عدالت میں فیلڈ سیٹنگ پر بڑا مان تھا کہ فلاں جائے گا تو فلاں آئے گا۔ اس بندوبست کے ساتھ حکومت نے وہ کر دی کہ اب کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں کہ کون کہاں گیا کیسے گیا اور اب کہاں ہوتا ہے۔
طنطنہ یہ تھا کہ اپنے سوا یہ سب کو چور اچکا سمجھتے تھے اور حالت یہ ہے کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی نہ قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر ان کا ہے نہ سینٹ کا۔ جس کی سٹیج پر نقلیں اتارتے تھے وہ ان کا اپوزیش لیڈر ہے۔ اور ان کے اپنے اراکین اب پارلیمان کی راہ داریوں میں ایک دوسرے سے لڑتےا ور الجھتے پائے جاتے ہیں ۔
جو مسئلہ سیاسی بصیرت سے حل ہو سکتا تھا ، نرگسیت ، انا ، تکبر ، کم فہمی اور بعض تھپکیوں سے وہ ڈور ایسی الجھائی ہے کہ سلجھنے کا کوئی امکان دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔
پارٹی میں اگر کوئی ایسا ہے جو خود احتسابی کا بھاری پتھر اٹھا سکے تو اسے خود سے سوال کرنا چاہیے چاؤ پورے ہو گئے ہیں یا ابھی مزید خطرے ناک ہونا ہے؟
دیکھیں: بنگلہ دیش اور افغانستان آپس میں کپاس اور ادویات کی ٹیکس فری تجارت کریں گے