وفاقی حکومت نے وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرائے جانے کے حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات کو بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وادیٔ تیراہ سے کسی قسم کی جبری یا فوجی بنیادوں پر نقل مکانی کا کوئی فیصلہ موجود نہیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے جان بوجھ کر یہ دعوے پھیلائے جا رہے ہیں کہ فوج نے وادی تیراہ کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ یہ دعوے حقائق کے یکسر خلاف ہیں۔ ان کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور بے یقینی پیدا کرنا ہے۔
وزارت کے مطابق ایسے گمراہ کن دعوؤں کا مقصد سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانا، سیاسی یا ذاتی مفادات حاصل کرنا اور ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کے ذریعے ریاستی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق تیراہ وادی سے ممکنہ نقل مکانی کا فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ خیبر نے کیا تھا، جس کی بنیاد 26 دسمبر 2025 کو جاری ہونے والا صوبائی حکومت کا سرکاری نوٹیفکیشن ہے۔ اس دستاویز میں صاف طور پر درج ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر رضاکارانہ ہے اور اس میں کسی قسم کی فوجی شمولیت شامل نہیں۔
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) January 24, 2026
دستاویز کے مطابق اکتوبر 2025 میں ضلعی انتظامیہ کی قیادت میں منعقد ہونے والے متعدد مشاورتی اجلاسوں کے دوران مقامی آبادی نے رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی پر اتفاق کیا، جو مقامی لوگوں کی رائے اور ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کسی فوجی آپریشن یا فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس ممکنہ رضاکارانہ نقل مکانی کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ نقل و حمل، خوراک، نقد امداد، عارضی رہائش اور رجسٹریشن مراکز سمیت پیشگی انتظامات کیے جا سکیں۔ تاہم، حکام کے مطابق اس معاملے کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ امدادی فنڈز کے استعمال اور انتظامی ناکامی سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
وزارتِ اطلاعات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا ایسا کوئی بیان، جس میں اس رضاکارانہ عمل کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے شدید موسمی حالات، برف باری اور دشوار گزار راستوں کے باوجود عوامی خدمت کے جذبے کے تحت دستیاب تمام وسائل بروئے کار لا کر انخلا کے انتظامات میں معاونت فراہم کی، تاہم یہ اقدام کسی فوجی حکم یا فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔
وفاقی حکومت نے اس امر پر زور دیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی جان و مال اور روزمرہ کے معمولات متاثر نہ ہوں، اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔