پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور نام نہاد انسانی حقوق کارکن شہزاد اکبر کے بارے میں برطانوی میڈیا میں حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹس نے ان کی جانب سے ایک بار پھر سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کو اجاگر کیا ہے۔ گارڈین میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق شہزاد اکبر کو برطانیہ میں دھمکیوں، حملوں، آتش زنی کی کوششوں اور اسلحے کے خطرات کا سامنا ہے، جسے پی ڈبلیو اے نے عالمی سطح پر اچھالا ہے۔
تاہم مبصرین اور تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ شہزاد اکبر محض ایک سیاسی مخالف نہیں بلکہ ایک ماہر سیاسی کھلاڑی ہیں جو اپنی معدوم ہوتی سیاسی اہمیت کو بحال کرنے کے لیے خود کو انسانی حقوق کا شہید بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا ماضی میں پاکستان کی اعلیٰ حکومتی پوزیشنز پر فائز رہنا ایک ایسا تضاد ہے جو اب ذاتی تحفظ اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ریاست کے خلاف من گھڑت بیانیے تخلیق کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ایک روایتی سیاسی پناہ گزینی کی حکمت عملی ہے کہ پاکستان کو ایک جابر ریاست کے طور پر پیش کریں، خود کو مظلوم سیاسی کارکن کے روپ میں ڈھالیں اور پھر بین الاقوامی تحفظ اور پلیٹ فارم کے حصول کے لیے دباؤ تشکیل دیں۔ اس بیانیہ سازی کا بنیادی مقصد ان کے زیرالتواء قانونی مقدمات اور فرار کی حیثیت سے توجہ ہٹانا ہے، جبکہ جذباتی سرخیوں اور بین الاقوامی ہمدردی کو سیاسی سرمایہ میں بدلنا ہے۔
پی ڈبلیو اے اور اس سے وابستہ افراد بشمول محلقہ سمدانی، درحقیقت انسانی حقوق کے داعی نہیں بلکہ سیاسی لابیز کے طور پر سرگرم ہیں۔ ان کی غیرملکی قانون سازوں سے ہونے والی ملاقاتیں اور مفاد پر مبنی مذاکرات پاکستان-برطانیہ تعلقات کے لیے مضر ہیں، حالانکہ وہ انہیں اصولی موقف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا نام دیتے ہیں۔
گارڈین کی رپورٹ میں بیشتر الزامات مفروضوں اور سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں، جس سے حقائق کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی یکطرفہ تاثرات قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین صحافت کا کہنا ہے کہ ذمہ دار رپورٹنگ کے لیے ثبوت کی بنیاد لازمی ہے، نہ کہ پاکستان کو شیطانی رنگ دینے والے ایسے سانچے جو سیاسی سہولت کے مطابق ڈھالے گئے ہوں۔
دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا