جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔

May 6, 2026

پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا

May 6, 2026

چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔

May 6, 2026

حکام نے بلوچستان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے ماہی گیری، لائیو سٹاک، حلال گوشت، پھل، معدنیات اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں کو نمایاں کیا اور گوادر پورٹ کو علاقائی تجارت کے لیے کلیدی گیٹ وے قرار دیا۔

May 6, 2026

انہوں نے اہم ترقیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کارڈیالوجی سینٹر کا بجٹ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ کیتھ لیب کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور میں ایمرجنسی خدمات کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

May 6, 2026

مرزا شہزاد اکبر کو برطانیہ کے مین اسٹریم میڈیا پر کور کیے جانے پر پاکستانی حکام نے سخت تشویش کا اظہار کر دیا

برطانیہ میں شہزاد اکبر کے انسانی حقوق کے دعوے اور سیاسی سرگرمیاں بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع، جبکہ تجزیہ کار ان کے سیاسی بیانیے اور حقائق کی جانب توجہ دلا رہے ہیں
برطانیہ میں شہزاد اکبر کے انسانی حقوق کے دعوے اور سیاسی سرگرمیاں بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع، جبکہ تجزیہ کار ان کے سیاسی بیانیے اور حقائق کی جانب توجہ دلا رہے ہیں

شہزاد اکبر اپنی کم ہوتی سیاسی اہمیت بحال کرنے کے لیے انسانی حقوق کا بیانیہ استعمال کر کے بین الاقوامی ہمدردی اور پلیٹ فارم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

January 25, 2026

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور نام نہاد انسانی حقوق کارکن شہزاد اکبر کے بارے میں برطانوی میڈیا میں حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹس نے ان کی جانب سے ایک بار پھر سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کو اجاگر کیا ہے۔ گارڈین میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق شہزاد اکبر کو برطانیہ میں دھمکیوں، حملوں، آتش زنی کی کوششوں اور اسلحے کے خطرات کا سامنا ہے، جسے پی ڈبلیو اے نے عالمی سطح پر اچھالا ہے۔

تاہم مبصرین اور تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ شہزاد اکبر محض ایک سیاسی مخالف نہیں بلکہ ایک ماہر سیاسی کھلاڑی ہیں جو اپنی معدوم ہوتی سیاسی اہمیت کو بحال کرنے کے لیے خود کو انسانی حقوق کا شہید بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا ماضی میں پاکستان کی اعلیٰ حکومتی پوزیشنز پر فائز رہنا ایک ایسا تضاد ہے جو اب ذاتی تحفظ اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ریاست کے خلاف من گھڑت بیانیے تخلیق کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ایک روایتی سیاسی پناہ گزینی کی حکمت عملی ہے کہ پاکستان کو ایک جابر ریاست کے طور پر پیش کریں، خود کو مظلوم سیاسی کارکن کے روپ میں ڈھالیں اور پھر بین الاقوامی تحفظ اور پلیٹ فارم کے حصول کے لیے دباؤ تشکیل دیں۔ اس بیانیہ سازی کا بنیادی مقصد ان کے زیرالتواء قانونی مقدمات اور فرار کی حیثیت سے توجہ ہٹانا ہے، جبکہ جذباتی سرخیوں اور بین الاقوامی ہمدردی کو سیاسی سرمایہ میں بدلنا ہے۔

پی ڈبلیو اے اور اس سے وابستہ افراد بشمول محلقہ سمدانی، درحقیقت انسانی حقوق کے داعی نہیں بلکہ سیاسی لابیز کے طور پر سرگرم ہیں۔ ان کی غیرملکی قانون سازوں سے ہونے والی ملاقاتیں اور مفاد پر مبنی مذاکرات پاکستان-برطانیہ تعلقات کے لیے مضر ہیں، حالانکہ وہ انہیں اصولی موقف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا نام دیتے ہیں۔

گارڈین کی رپورٹ میں بیشتر الزامات مفروضوں اور سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں، جس سے حقائق کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی یکطرفہ تاثرات قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین صحافت کا کہنا ہے کہ ذمہ دار رپورٹنگ کے لیے ثبوت کی بنیاد لازمی ہے، نہ کہ پاکستان کو شیطانی رنگ دینے والے ایسے سانچے جو سیاسی سہولت کے مطابق ڈھالے گئے ہوں۔

دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا

متعلقہ مضامین

جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔

May 6, 2026

پاکستان میں افغان بیس بال ٹیم کا کیمپ قائم ہونے کی بنیادی وجہ یہاں دستیاب سہولیات کا ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کھلے میدانوں میں پاکستان کی قومی بیس بال ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی بھی اسی اکیڈمی میں پریکٹس کرتے ہیں۔

May 6, 2026

بھارت جیسے بالائی علاقوں کے ملک کی جانب سے پانی کی فراہمی کو محدود کرنا اور اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر قانونی اور خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور نظام اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا

May 6, 2026

چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔

May 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *