بھاٹی گیٹ میں ماں اور بچی کے مین ہول گرنے کے واقعے پر ابتدا میں ایل ڈی اے، واسا اور ریسکیو نے انکار کیا، پولیس نے والد کو چھ گھنٹے حراست میں لیا اور تین افراد گرفتار کیے، بعد میں حقائق سامنے آنے پر مؤقف بدل دیا

January 29, 2026

افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اور ترکمنستان کے وزیر خارجہ راشد مردوف کی ویڈیو کانفرنس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، تاپی اور ریلوے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو

January 29, 2026

پاکستان نے سات مسلم ممالک کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی تاکہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جا سکے

January 29, 2026

مرکزی مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے سختی سے تردید کر دی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ایک صوبائی رہنما نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ ایک سیاسی کارکن اور مقامی سطح کے متحرک رہنما تھے اور ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

January 29, 2026

میجر جنرل مدثر سعید نے علماء کرام پر زور دیا کہ دہشت گردی جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے وہ صفِ اوّل کا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور مدارس کے طلباء تک اسلام کی درست تعلیمات پہنچانا، مدارس کی رجسٹریشن، مساجد سے مثبت اور ذمہ دارانہ پیغام دینا اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

January 29, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کو لاحق ہر طرح کے داخلی و خارجی چیلنجز اور جدید جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فنی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر تیار ہیں

January 29, 2026

ٹرمپ کشمیری مسئلہ بورڈ آف پیس میں شامل کرسکتے ہیں، بھارت میں خدشات

بھارت نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ابھی تک شمولیت نہیں کی، نئی دہلی کے خدشات مسٔلہ کشمیر اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں ہیں، جبکہ پاکستان بورڈ میں شامل ہو چکا ہے
بھارت نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ابھی تک شمولیت نہیں کی، نئی دہلی کے خدشات مسٔلہ کشمیر اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں ہیں، جبکہ پاکستان بورڈ میں شامل ہو چکا ہے

بھارت کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر کو بھی لا سکتے ہیں جس سے بھارت سفارتی حکمتِ عملی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے

January 26, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں تشکیل پانے والے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے حوالے سے بھارت کی جانب سے کسی واضح مؤقف کا اظہار نہ ہونے پر مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس عالمی امن فورم کے چارٹر پر بیس رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں، جن میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی موجودگی نے خطے کی سیاست میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس بورڈ کا بنیادی مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فلسطینی علاقوں میں عبوری حکومت کے قیام کی نگرانی کرنا ہے۔ تاہم ان کے اس بیان نے بھارت میں سیاسی و سفارتی حلقوں کو اضطراب میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذکورہ اقدام صرف امریکہ تک محدود نہیں، بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ہے۔ ہم اس ماڈل کو دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی بروئے کار لا سکتے ہیں۔

بھارتی حلقوں میں اس بات کا گہرا خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر نئی دہلی اس فورم کا حصہ بنتی ہے تو جموں و کشمیر کے داخلی معاملات پر بین الاقوامی یا امریکی نگرانی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہ اندیشہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ثالثی کی متعدد بار پیشکش کی ہے، جسے بھارت نے ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

عالمی خبر رساں کے مطابق یہ بورڈ ایسے وقت میں معرض وجود میں آ رہا ہے جب امریکہ اقوام متحدہ کے متعدد اہم اداروں سے اپنی شمولیت کم کر رہا ہے۔ اس عمل نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا یہ نیا ڈھانچہ درحقیقت موجودہ کثیرالجہتی اداروں کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

دی ہندو میں پاکستان کے اس فورم میں شامل ہونے کے فیصلے کو بھارت کے لیے ’’انتباہی سگنل‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ نیز صدر ٹرمپ ’’عالمی امن کے علمبردار‘‘ کے طور پر اپنا تشخص مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں اور پہلے ہی کئی بین الاقوامی تنازعات میں اپنی کامیاب ثالثی کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

سابق بھارتی سفیر سید اکبر الدین نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت اس بورڈ کی معیاد 31 دسمبر 2027 تک ہے اور یہ ہر چھ ماہ بعد کارروائیوں کی رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہے۔ تاہم تشویش کا اہم پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ کے امن منصوبے کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں اور اسے دوسرے متنازعہ خطوں میں بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔

سابق سفیر رنجیت رائے کے مطابق،نئی دہلی کے لیے یہ فیصلہ انتہائی مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بورڈ کے سربراہ ہونے اور ان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے اس فورم سے غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع کرنا مشکل ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ بھارت تعلقات میں موجودہ کشیدگی اور تجارتی معاہدات کے حساس مراحل بھی بھارت کو اس دعوت کو یکطرفہ طور پر مسترد کرنے سے روک سکتے ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے صدر ٹرمپ کی ناراضگی کا خطرہ ہے، جس کے دوررس سیاسی و معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا

متعلقہ مضامین

بھاٹی گیٹ میں ماں اور بچی کے مین ہول گرنے کے واقعے پر ابتدا میں ایل ڈی اے، واسا اور ریسکیو نے انکار کیا، پولیس نے والد کو چھ گھنٹے حراست میں لیا اور تین افراد گرفتار کیے، بعد میں حقائق سامنے آنے پر مؤقف بدل دیا

January 29, 2026

افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اور ترکمنستان کے وزیر خارجہ راشد مردوف کی ویڈیو کانفرنس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، تاپی اور ریلوے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو

January 29, 2026

پاکستان نے سات مسلم ممالک کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی تاکہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جا سکے

January 29, 2026

مرکزی مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے سختی سے تردید کر دی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ایک صوبائی رہنما نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ ایک سیاسی کارکن اور مقامی سطح کے متحرک رہنما تھے اور ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

January 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *