مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

ٹرمپ کشمیری مسئلہ بورڈ آف پیس میں شامل کرسکتے ہیں، بھارت میں خدشات

بھارت نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ابھی تک شمولیت نہیں کی، نئی دہلی کے خدشات مسٔلہ کشمیر اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں ہیں، جبکہ پاکستان بورڈ میں شامل ہو چکا ہے
بھارت نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ابھی تک شمولیت نہیں کی، نئی دہلی کے خدشات مسٔلہ کشمیر اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں ہیں، جبکہ پاکستان بورڈ میں شامل ہو چکا ہے

بھارت کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر کو بھی لا سکتے ہیں جس سے بھارت سفارتی حکمتِ عملی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے

January 26, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں تشکیل پانے والے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے حوالے سے بھارت کی جانب سے کسی واضح مؤقف کا اظہار نہ ہونے پر مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس عالمی امن فورم کے چارٹر پر بیس رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں، جن میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی موجودگی نے خطے کی سیاست میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس بورڈ کا بنیادی مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فلسطینی علاقوں میں عبوری حکومت کے قیام کی نگرانی کرنا ہے۔ تاہم ان کے اس بیان نے بھارت میں سیاسی و سفارتی حلقوں کو اضطراب میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذکورہ اقدام صرف امریکہ تک محدود نہیں، بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ہے۔ ہم اس ماڈل کو دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی بروئے کار لا سکتے ہیں۔

بھارتی حلقوں میں اس بات کا گہرا خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر نئی دہلی اس فورم کا حصہ بنتی ہے تو جموں و کشمیر کے داخلی معاملات پر بین الاقوامی یا امریکی نگرانی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہ اندیشہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ماضی میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ثالثی کی متعدد بار پیشکش کی ہے، جسے بھارت نے ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

عالمی خبر رساں کے مطابق یہ بورڈ ایسے وقت میں معرض وجود میں آ رہا ہے جب امریکہ اقوام متحدہ کے متعدد اہم اداروں سے اپنی شمولیت کم کر رہا ہے۔ اس عمل نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا یہ نیا ڈھانچہ درحقیقت موجودہ کثیرالجہتی اداروں کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

دی ہندو میں پاکستان کے اس فورم میں شامل ہونے کے فیصلے کو بھارت کے لیے ’’انتباہی سگنل‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ نیز صدر ٹرمپ ’’عالمی امن کے علمبردار‘‘ کے طور پر اپنا تشخص مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں اور پہلے ہی کئی بین الاقوامی تنازعات میں اپنی کامیاب ثالثی کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

سابق بھارتی سفیر سید اکبر الدین نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت اس بورڈ کی معیاد 31 دسمبر 2027 تک ہے اور یہ ہر چھ ماہ بعد کارروائیوں کی رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہے۔ تاہم تشویش کا اہم پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ کے امن منصوبے کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں اور اسے دوسرے متنازعہ خطوں میں بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔

سابق سفیر رنجیت رائے کے مطابق،نئی دہلی کے لیے یہ فیصلہ انتہائی مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بورڈ کے سربراہ ہونے اور ان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے اس فورم سے غیر جانبدارانہ فیصلوں کی توقع کرنا مشکل ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ بھارت تعلقات میں موجودہ کشیدگی اور تجارتی معاہدات کے حساس مراحل بھی بھارت کو اس دعوت کو یکطرفہ طور پر مسترد کرنے سے روک سکتے ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے صدر ٹرمپ کی ناراضگی کا خطرہ ہے، جس کے دوررس سیاسی و معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

دیکھیں: ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘: اسرائیل اور آذربائیجان شامل، سویڈن نے حصہ بننے سے انکارکر دیا

متعلقہ مضامین

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ردعمل سامنے آگیا۔

November 4, 2026

نیب اور ایف آئی اے نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *