افغان طالبان نے پہلی بار اعلانیہ مطالبہ کیا ہے کہ گوانتانامو میں قید محمد رحیم کے بدلے دو امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے۔ محمد رحیم کو القاعدہ سے تعلقات کے الزام میں رکھا گیا ہے۔
طالبان کے ترجمان نے عوامی سطح پر کہا کہ ہمارا قیدی رہا کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے واضح کیا کہ محمد رحیم کو مستقبل کے کسی بھی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اہلکاروں کے مطابق امریکہ کسی بھی مذاکرات میں اس قیدی کو تبادلے کا حصہ نہیں بنائے گا اور اس مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر بھی واضح کر دیا گیا ہے۔
Taliban demand release of 2 Americans in exchange for Muhammad Rahim, held in Guantanamo for Al Qaeda ties. "Our prisoner should be released," says Taliban spox, making demand public for first time. US officials refuse to include Rahim in future deals.
— Ihsanullah Tipu Mehsud (@IhsanTipu) January 26, 2026
https://t.co/oGu7jlzeFm
محمد رحیم، جسے امریکی حکام ’’القاعدہ کا اعلیٰ رکن‘‘ قرار دیتے ہیں کو ۲۰۰۷ سے گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے دستاویزات کے مطابق رحیم پر القاعدہ کے ساتھ گہرے تعلقات، مالی معاونت اور متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد ہیں۔
ماہرین کے مطابق طالبان نے اس مطالبے کے ذریعے پہلی بار عالمی سطح پر اپنی سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کو واضح کیا۔ محمد رحیم کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں گوانتانامو میں رکھا گیا ہے اور امریکی حکام نے اسے مستقبل کے کسی بھی قیدی تبادلے میں شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان عالمی میڈیا اور بین الاقوامی برادری میں اپنی اہمیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکنہ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اس فیصلے سے قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں دونوں فریقوں کے درمیان پیچیدہ مذاکراتی ماحول کا عندیہ ملتا ہے اور طالبان کے مطالبے کی عملی کامیابی کے امکانات محدود ہیں۔
دیکھیں: طالبان دور میں غذائی بحران بے قابو، ایک کروڑ 70 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار