متحدہ عرب امارات نے علاقائی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ واضح رہے کہ اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس پالیسی کی تصدیق کی ہے۔
اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق مسائل کا حل مذاکرات کو فروغ دے کر، کشیدگی کم کر کے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کے ذریعے ممکن ہے۔
علاقائی تناظر میں اہمیت
مذکورہ اعلان خطے میں حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ خلیجی خطے میں سلامتی کے حالیہ واقعات نے بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی ہے اور امارات کے اس اقدام کو علاقائی سطح پر ایک پرامن اور متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سفارتی حل
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق مسائل کا حل مذاکرات کو فروغ دے کر، کشیدگی کم کر کے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ممالک کی خودمختاری کے احترام کے ذریعے ممکن ہے۔
الإمارات تؤكد التزامها بعدم السماح باستخدام أجوائها أو أراضيها أو مياهها في أي أعمال عسكرية ضد إيرانhttps://t.co/FFl4K2dsrk pic.twitter.com/TOrNPLgeNq
— MoFA وزارة الخارجية (@mofauae) January 26, 2026
بین الاقوامی ردعمل
ابتدائی ردعمل میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک نے امارات کے اس مؤقف کو علاقائی استحکام کے لیے ایک سازگار قدم قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام خطے میں تصادم کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کے مطابق امارات کی یہ واضح غیرجانبداری کی پالیسی خطے میں ایک نئی سفارتی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مقصد تنازعات کو سفارتی حل کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے علاقائی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دیکھیں: ایران ۔ ترکی سرحد پر سانحہ: برفباری میں 45 افغان مہاجرین ہلاک