ازبکستان نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم پیشکش کرتے ہوئے اپنے 29 ٹیکسٹائل یونٹس کی فروخت کا اعلان کیا ہے اور بخارا میں ایک مخصوص ازبک۔ پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹریل زون کے قیام کی تجویز دی ہے۔ مذکورہ اقدام کا مقصد دونوں ممالک کی صنعتی ترقی کو فروغ دینا اور باہمی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ تجاویز ازبکستان کی لائٹ انڈسٹری ترقی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر روخلو ذکریلوف نے پیش کیں، جو اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدے داروں کے ساتھ دورانِ ملاقات ازبک وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
سرمایہ کاروں کے لیے مراعات
ذکریلوف نے وضاحت کی کہ پاکستانی سرمایہ کار ان ٹیکسٹائل یونٹس کو پانچ سالہ آسان ادائیگی کے منصوبے کے تحت حاصل کر سکتے ہیں، جس کے ساتھ متعدد مراعات بھی شامل ہوں گی۔ ان مراعات میں ٹیکس چھوٹ، کم شرح سود پر قرضے کی سہولیات اور نقد واپسی کی ضمانتیں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ازبک ٹیکسٹائل تاجر پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ پیداواری انتظامات کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی قدر میں اضافہ کر کے برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔
ازبکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد
ذکریلوف نے ازبکستان میں سرمایہ کاری کے مسابقتی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ملک میں بجلی کے نرخ محض آٹھ امریکی سینٹ فی یونٹ ہیں، جبکہ آزاد صنعتی زون میں قائم صنعتیں صرف تین امریکی سینٹ فی یونٹ ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ازبکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہے، جو اسے برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام بناتا ہے۔
آئی سی سی آئی کی حمایت
آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے اس پیشکش کو دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اکستان اور ازبکستان تجارت، توانائی، سیاحت اور علاقائی رابطوں سمیت متعدد شعبوں میں وسیع صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
انہوں نے ازبک صدر شوکت مرزیوئیف کے آئندہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی رفتار آئے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی پاکستانی کاروباری برادری کے مفاد میں بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
دیکھیں: ایران ۔ ترکی سرحد پر سانحہ: برفباری میں 45 افغان مہاجرین ہلاک