پاکستان اور چین کے مابین زرعی شعبے میں تاریخی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد اور چین کی نارتھ ویسٹ ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری یونیورسٹی کے مابین نئے معاہدوں پر دستخط نے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کو نئی جہت دی ہے۔
27 جنوری 2026 کو چینی زرعی وفد کی فیصل آباد یونیورسٹی آمد کے دوران دونوں اداروں نے سلک روڈ بائیوہیلتھ ایگریکلچرل انڈسٹری الائنس کے تحت کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے کا مقصد بایو ہیلتھ ایگریکلچر، اسمارٹ فارمنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے شعبوں میں مشترکہ کام کرنا ہے۔ نئے تعاون کے تحت دونوں ممالک نے پولٹری سائنس، اینیمل فیڈ، فرٹیلائزرز، فوڈ اینڈ فروٹ پروسیسنگ اور پریسیژن ایگریکلچر جیسے اہم شعبوں میں کام کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زرعی شعبے کو ترجیحی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان اور چین نے 78 معاہدے کیے ہیں جن کی مالیت 4.5 بلین ڈالر ہے۔ ان معاہدوں میں ڈیری، پولٹری، سبزیاں، مچھلیاں اور زرعی مشینری جیسے دس ترجیحی شعبے شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی کسانوں کو جدید چینی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی، جس سے پیداوار اور معیار بہتر ہوگا اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان اور چین کا یہ مشترکہ تعاون زرعی انقلاب کی بنیاد رکھ رہا ہے، جو نہ صرف تحقیق اور تعلیم کو فروغ دے گا بلکہ زرعی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کر کے کسانوں اور معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
دیکھیے: ضلع دُکی: کوئلے کی پیداوار سے قومی معیشت کو مضبوط سہارا