ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے غزہ میں امن اور تعمیر نو کے لیے قائم کردہ ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت اختیار کی ہے، تاہم پاکستان ‘ابراہیمی معاہدے’ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہوگا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اصولی بنیادوں پر اور جامع و تفصیلی مشاورت کے بعد کی گئی ہے، جبکہ اسے ابراہیمی معاہدے سے جوڑنا سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے بنیادی مقاصد غزہ میں مستقل جنگ بندی قائم کرنا، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو میں معاونت فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر مبنی پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا شامل ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سات دیگر مسلم ممالک بھی اس بورڈ کے رکن ہیں، جن میں سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔
سفری پالیسی اور ویزا امور
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ویزا پابندیوں اور سفری ہدایات کے حوالے سےگفتگو جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جانب سے جاری کردہ نئی ٹریول ایڈوائزری ایک تجدید ہے، نہ کہ کمی بیشی اور پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے محفوظ اور پُرامن ملک ہے۔
علاقائی امن پر مؤقف
خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان طاقت کے غیر ضروری استعمال اور جنگی جارحیت کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے اور جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون
قازقستان کے صدر کے آئندہ دورے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اس موقع پر پاکستان ریلوے کے منصوبوں اور ترکمنستان و افغانستان کے راستے شامل مشترکہ منصوبوں پر بات چیت متوقع ہے۔ افغان شہریوں کے ذریعے دہشت گرد کاروائیوں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس مسئلے پر افغان حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ قائم کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اختتام پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے متحدہ عرب امارات کے دورے اور وزیر اعظم کی عالمی اقتصادی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی معلومات فراہم کیں، جہاں عالمی اقتصادی رہنماؤں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔