تِیراہ وادی گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان کے اُن حساس علاقوں میں شامل رہی ہے جہاں دہشت گردی، منشیات اور غیرقانونی سرگرمیوں کا ایک گہرا گٹھ جوڑ قائم ہو گیا تھا۔ خوارج نیٹ ورکس، افغان طالبان کے سہولت کاروں اور منشیات اسمگلرز نے اس خطے کو ایک محفوظ دہشت گرد پناہ گاہ میں تبدیل کر رکھا تھا، جہاں دہشت گردی، جرائم اور سیاست کا گٹھ جوڑ عام شہری آبادی کے اندر پیوست ہو چکا تھا۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: حکمتِ عملی اور نتائج
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں (پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور پاک فوج) نے برسوں پر محیط انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف منظم کارروائیاں کیں۔ صرف 2025 میں ملک بھر میں 75,175 سے زائد IBOs کیے گئے، یعنی اوسطاً روزانہ 200 سے زیادہ کارروائیاں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں 2,597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں خوارج کے اہم کمانڈر اور سہولت کار شامل تھے۔ یہ کسی ایک کیلنڈر سال میں دہشت گردوں کے خلاف سب سے بڑی کامیابی شمار کی جاتی ہے۔
ان آپریشنز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ روایتی فوجی آپریشنز کے برعکس بڑے پیمانے پر نقل مکانی، جانی نقصان اور عوامی مشکلات کا سبب نہیں بنتے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر نگرانی، درست انٹیلی جنس اور پریسژن اسٹرائکس کے ذریعے شہری نقصان کو کم سے کم رکھا گیا، جس سے دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے جھوٹے بیانیے بھی کمزور پڑے۔
تِیراہ میں صورتِ حال اور جرگہ کا کردار
تِیراہ میں خوارج کی موجودگی، منشیات پر مبنی دہشت معیشت، شہری آبادی میں زبردستی رہائش، انسانی ڈھال کے طور پر مقامی لوگوں کا استعمال، کواڈ کاپٹرز کے ذریعے نگرانی اور آبادی کے اندر دھماکہ خیز مواد و آئی ای ڈی ذخیرہ کرنے جیسے خطرات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔
ستمبر میں مقامی عمائدین، پاک فوج، خیبرپختونخوا حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل جرگہ منعقد ہوا۔ اس جرگے کا مقصد خوارج کی موجودگی کے خاتمے اور انٹیلیجنس آپریشنز کے دوران ممکنہ شہری نقصان سے بچاؤ کے لیے کوئی قابلِ قبول حل تلاش کرنا تھا۔ تین آپشنز زیرِ غور آئےکہ جرگہ خود خوارج سے بات چیت کرے اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرے۔ سیکیورٹی فورسز IBOs مزید سخت اور وسیع کریں یا پھر مقامی آبادی رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کرے تاکہ فورسز خوارج کے خلاف بلا رکاوٹ کارروائی کر سکیں۔
جرگے نے تین ماہ تک خوارج سے مذاکرات کیے، مگر انہوں نے عوامی مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور پشتونولی و مقامی روایات کی بھی پروا نہ کی۔ اس ضد اور ہٹ دھرمی نے ان کے پرتشدد اور قانون شکن نظریے کو بے نقاب کر دیا۔
رضاکارانہ نقل مکانی: حقائق
طویل مشاورت کے بعد جرگے اور حکومتی اداروں نے رضاکارانہ نقل مکانی کا فیصلہ کیا، جو سالانہ موسمی ہجرت کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔ اس عمل کے لیے 19,000 خاندانوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 65 فیصد خاندان اپنی مرضی سے منتقل ہوئے، جبکہ 35 فیصد خاندانوں نے فصلوں اور ذاتی وجوہات کی بنا پر وہیں رہنے کا انتخاب کیا۔
اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی مرحلے پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی نقل مکانی نہیں کروائی گئی۔ یہ ایک باہمی رضامندی سے طے پانے والا انتظام تھا، اور متاثرہ خاندانوں کو حکومت کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔
کیا کوئی بڑا فوجی آپریشن ہو رہا ہے؟
سوشل میڈیا پر پھیلنے والے دعوؤں کے برعکس تِیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ گزشتہ ایک سال سے وہاں چھ فوجی یونٹس موجود ہیں، نہ اضافی نفری تعینات کی گئی اور نہ ہی کسی بڑے آپریشن کے لیے روایتی پیشگی انتظامات کیے گئے۔ موسمِ سرما اور برفباری بھی کسی وسیع فوجی کارروائی کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔
اگر زبردستی نقل مکانی یا بڑا آپریشن ہوتا تو فوج کی جانب سے اسکریننگ مراکز اور متعدد چیک پوسٹس قائم کی جاتیں تاکہ دہشت گرد آبادی کے ساتھ نقل مکانی نہ کر سکیں، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ موجودہ رجسٹریشن اور کنٹرول پوائنٹس سول انتظامیہ چلا رہی ہے۔
باغ جوائنٹ ایکشن پلان
تِراہ میں تمام اقدامات بَغھ جوائنٹ ایکشن پلان (BJAP) کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس میں انسدادِ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی، معاشی بحالی اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی محفوظ واپسی شامل ہے۔ یہ منصوبہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ طویل المدتی استحکام کا فریم ورک ہے۔
پروپیگنڈا اور حقیقت
صوبائی سطح پر فنڈز کے ناقص انتظام اور بعض سیاسی عناصر، بالخصوص پی ٹی آئی کی جانب سے پھیلایا گیا پروپیگنڈا، زمینی حقائق کو نہیں بدل سکتا۔ یہ جھوٹا بیانیہ نہ صرف ریاست کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے بلکہ خوارج کی بالواسطہ سہولت کاری اور عوامی وسائل کے غلط استعمال پر پردہ ڈالنے کی ایک چال بھی ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پیشہ ورانہ مہارت، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور درست کارروائیوں کے ذریعے خوارج دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہی ہیں، جبکہ شہری جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ تِیراہ میں ہونے والی کارروائیاں قانونی، محدود اور مخصوص اہداف کے خلاف ہیں۔
ہر قدم اس سچ کو مضبوط کرتا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کا تحفظ کرتا ہے، انتہاپسند پناہ گاہوں کو ختم کرتا ہے اور وہاں امن و استحکام بحال کرتا ہے جہاں دہشت گردوں نے خوف پھیلانے کی کوشش کی۔