کلیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی مسلح جھڑپوں اور غیرقانونی سرگرمیوں کے پیشِ نظر تاجکستان کی سرحدی فوجوں کو جدید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کے سکریٹری جنرل ٹالغت موسیبایف نے روسی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس کو بتایا کہ سی ایس ٹی او اس وقت تاجکستان کو دیے جانے والے فوجی اور تکنیکی سازوسامان کی فہرست حتمی کر رہی ہے۔
سیکریٹری جنرل کے مطابق مذکورہ اقدام تاجک فورسز کی عملی قوت بڑھانے، سرحدی تحفظ کو مضبوط بنانے اور افغانستان سے عسکریت پسندوں اور منشیات اسمگلروں کی دراندازی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ماہرینِ سیکیورٹی اس قدم کو وسطی ایشیا میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ افغانستان میں جاری بدامنی سے پڑوسی ممالک کی سرحدیں مسلسل خطرے کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق تاجکستان کو فراہم کیے جانے والے جدید فوجی سازوسامان میں جدید آپریشنل گاڑیاں، جدید نگرانی کے آلات اور جدید فائرنگ سسٹم شامل ہو سکتے ہیں، جو سرحدی فورسز کی ردعمل کی صلاحیت اور دفاعی مؤثریت میں نمایاں اضافہ کریں گے۔
سیکیورٹی حلقوں کا خیال ہے کہ CSTO کا یہ فیصلہ نہ صرف تاجکستان کی سرحدی حفاظت کو یقینی بنائے گا، بلکہ افغانستان میں جاری کشیدگی کے خطے میں پھیلنے کے امکانات کو بھی کم کرے گا۔ تاجک فورسز کی مضبوطی سے دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسی غیرقانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی، جس سے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا