امارتِ اسلامیہ افغانستان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں مکمل امن قائم ہے، معیشت خودمختار ہو رہی ہے اور عوام ’’وحدت و امن‘‘ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی تحقیقات، اقوام متحدہ کے اعدادوشمار اور زمینی حقیقت ان دعوؤں کو شدید چیلنج کرتی ہے، جو ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں سکیورٹی بحران، معاشی زوال، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں موجود ہیں۔
امن کے دعوے اور دہشت گرد گروہ
افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’چالیس سال بعد افغان عوام پہلی بار مستحکم سلامتی سے مستفید ہو رہے ہیں‘‘ اور ’’لوگ اطمینان سے سفر کر سکتے ہیں‘‘۔ لیکن اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی گزشتہ رپورٹس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ افغانستان میں کم از کم 20 بین الاقوامی دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں، جن میں داعش خراسان نمایاں ہے، جو مسلسل پڑوسی ممالک پر حملے کر رہا ہے اور متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہے، بارہا مرتبہ افغان سرحد سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کی شکایات درج کروا چکے ہیں، جو ’’مکمل امن‘‘ کے دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
معاشی خودکفالت یا بیرونی امداد پر انحصار؟
ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کا بجٹ ’’اندرونی وسائل‘‘ سے پورا کیا گیا ہے اور صوبہ ہرات میں فیکٹریوں کی تعداد میں 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم عالمی بینک اور اقوام متحدہ کی معاشی رپورٹس کے مطابق افغانستان کی معیشت کا انحصار اب بھی غیر ملکی امداد، غیر رسمی آمدنی اور منشیات کی اسمگلنگ پر ہے۔ نجی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، بیروزگاری کی شرح انتہائی بلند ہے، اور امدادی ادارے مسلسل انسانی بحران سے نمٹ رہے ہیں۔ فیکٹریوں کی تعداد کا اعلان بھی قومی سطح پر روزگار کے مواقع یا عوامی معیار زندگی میں بہتری کی تصدیق نہیں کرتا۔
مہاجرین کی واپسی اور بحران
ملا ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق گزشتہ عرصے میں 28 لاکھ سے زائد مہاجرین واپس آئے ہیں اور انہیں خدمات فراہم کی گئیں۔ لیکن بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ واپس آنے والے بہت سے خاندانوں کے پاس نہ رہنے کی جگہ ہے، نہ روزگار، اور نہ ہی بنیادی صحت یا تعلیمی سہولیات۔ خوراک اور پینے کے صاف پانی کی قلت ان کی واپسی کو ایک نئے بحران میں بدل رہی ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی
ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ نئے ’’تعزیری ضابطہ قانون‘‘ کی تشریح شریعتِ اسلامی کے مطابق کی گئی ہے اور جو لوگ تنقید کرتے ہیں، ان کا اسلام بارے علم سطحی سطح کا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس ضابطے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ یہ خواتین، اقلیتوں اور آزادی اظہار کو نشانہ بناتا ہے، عدالتی عمل کو محدود کرتا ہے، اور اختلاف رائے کو جرم قرار دیتا ہے۔ خواتین پر تعلیم اور کام کے حقوق کی پابندیاں عالمی سطح پر مذمت کا سبب بنی ہوئی ہیں۔
امارتِ اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان TV کو ایک انٹرویو دیا ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
— امارتِ اسلامی اردو (@IEAUrduOfficial) January 29, 2026
1. الحمدللہ، افغان عوام اور مجاہدین نے 20 سالہ مغربی قبضے سے پوری بہادری کے ساتھ آزادی حاصل کی ہے۔ آج الحمدلله تمام افغان اسلامی نظام کے سائے تلے وحدت اور امن و امان… pic.twitter.com/BsjJ9qI6WM
اتحاد کے دعوے اور اقتدار کی مرکزیت
ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امارت کے اندر کوئی اختلاف نہیں اور سب ایک امیر کے حکم کے تحت کام کر رہے ہیں۔ لیکن متعدد رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ قندھار اور کابل کے مابین پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں اور حکومت کے اندر گروہ بندیاں عیاں ہیں۔ اقتدار عملاً چند مذہبی رہنماؤں تک محدود ہے، جس سے ’’شمولیتی حکومت‘‘ کے دعوے مشکوک ہو جاتے ہیں۔
افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کا انٹرویو امارتِ اسلامیہ کی جانب سے اپنے دور حکومت کو ”کامیاب” ثابت کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ لیکن زمینی حقائق، بین الاقوامی رپورٹس اور افغان عوام کی روزمرہ کی جدوجہد ان دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔ امن، معاشی ترقی اور انصاف کے بجائے، افغانستان آج بھی سیکیورٹی کے چیلنجز، معاشی بدحالی، انسانی حقوق کے بحران اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت