فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر نے گزشتہ شب بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر “آپریشن ہیروف 2.0” کے نام سے بیک وقت دہشت گردانہ حملے کیے، تاہم سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت، منظم اور مؤثر ترین کارروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بن گئے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کی گئی کارروائیوں میں اب تک108 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ افسوسناک طور پر ان واقعات میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے 10 بہادر جوان مادرِ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔
دہشت گردوں کی درندگی
سفاک ہندوستانی پراکسی دہشتگردوں نے 11 معصوم غریب بلوچ شہریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا۔ شہید ہونے والوں میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ ان تمام کا تعلق بلوچستان سے ہے جو محنت مزدوری کیلئے گوادر آئے تھے۔ یہ کاروائی دہشت گردوں کی بزدلانہ فطرت اور سفاکیت کی واضح مثال ہے۔
کاروائیوں کی تفصیل
دہشت گردانہ حملے کوئٹہ، گوادر، قلات، نوشکی، دالبندین، پسنی، بلچہ، تمپ اور مستونگ کے مختلف مقامات پر کیے گئے۔ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک پولیس وین پر حملے کے فوراً بعد فرنٹیئر کور اور پولیس نے چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ آور بھاگ گئے، جبکہ دالبندین میں خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا کر دہشت گردوں کا محاصرہ کر لیا گیا۔ قلات میں ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر اور پولیس لائنز پر حملہ آور شدید نقصان اٹھانے کے بعد پسپا ہوئے۔ گوادر میں مزدور کالونی پر حملے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ دیگر اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر کیے گئے حملے بھی مکمل طور پر پسپا کر دیے گئے۔
بھارتی میڈیا کا مذموم کردار
سکیورٹی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی حمایت کے گٹھ جوڑ نے واضح طور پر سامنے آ گیا، جس سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردانہ کاروائیوں کی حمایت کا پتا چلتا ہے۔
سیکورٹی ردعمل اور حکمت عملی
ذرائع کے مطابق یہ بیک وقت حملے فتنہ الہندوستان کی جانب سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز میں 50 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد کیے گئے ردعمل تھے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مختلف مقامات پر تعاقبی آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے تاکہ باقی دہشت گردوں اور ممکنہ خطرات کو بروقت ختم کیا جا سکے۔
وزارت داخلہ کا مؤقف
وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں ہر محاذ پر مضبوطی سے کھڑا ہے۔ بے گناہ شہریوں کے قاتل دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ہماری سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتی ہیں۔
بین الاقوامی تناظر
خارجہ امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بے گناہ شہریوں کے قتل نے دہشت گرد گروہوں کی بین الاقوامی حمایت کو مزید کم کر دیا ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف ہے اور دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف عالمی برادری کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا