پاکستانی حکام نے یورپی ممالک اور اداروں کی جانب سے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی کھلی حمایت پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں افراد کو پاکستان کے ملکی قوانین کے تحت اُن سرگرمیوں پر سزا سنائی گئی ہے جو کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک تھیں۔ بی ایل اے کو پاکستان، امریکا اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔
بی ایل اے: علیحدگی پسند نہیں، دہشت گرد تنظیم
سرکاری حکام نے واضح کیا کہ بی ایل اے کو علیحدگی پسند تحریک کہنا گمراہ کن ہے۔ ایک حکومتی ترجمان کے مطابق،
“علیحدگی پسندی سیاسی مکالمے سے جڑی ہوتی ہے، جبکہ دہشت گردی کی پہچان عام شہریوں پر تشدد ہے۔”
حکام نے نشاندہی کی کہ بی ایل اے متعدد خودکش حملوں، شہریوں اور انفراسٹرکچر پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جبکہ ایمان مزاری مسلسل اس تنظیم کے افراد کو ریاستی مظالم کا شکار بنا کر پیش کرتی رہی ہیں۔
پاکستانی حکام نے خبردار کیا کہ یورپی میڈیا اور اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو “علیحدگی پسند” کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرتا ہے بلکہ دہشت گردی کو معمول پر لانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بین الاقوامی قانون یا انسانی ہمدردی کا اصول عام شہریوں پر حملوں کو سیاسی جدوجہد قرار نہیں دیتا، اور صحافتی ساکھ کا دارومدار درست اصطلاحات اور حقائق پر ہے۔
شہری حقوق اور سلامتی پر اثرات
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کا احترام صرف مخصوص افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ بلوچستان کے عام اور بے گناہ شہریوں کے حقوق بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ حکومت کے مطابق بی ایل اے کی مسلسل کارروائیاں صوبے میں عام شہریوں، مزدوروں، بچوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے بیانیے جو بی ایل اے کے کردار کو نرم کرکے پیش کریں، متاثرین کے ساتھ ناانصافی اور احتساب کے عمل میں رکاوٹ ہیں۔
ایک سرکاری ترجمان نے کہا،
“یورپی حلقوں کی جانب سے ایسی شخصیت کی حمایت، جو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہو، جبکہ عام بلوچ شہریوں کی تکالیف کو نظر انداز کیا جائے، نہایت تشویشناک ہے۔”
حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آزادیِ اظہار دہشت گردی کی حمایت، تشدد کی ترویج یا بدامنی پر اکسانے کا تحفظ فراہم نہیں کرتی، اور سیاسی اختلاف اور پرتشدد بیانیے کے درمیان واضح فرق کرنا ناگزیر ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا