گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بیک وقت کیے گئے دہشت گردانہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست مخالف دہشت گرد عناصر نے منظم حکمتِ عملی کے تحت خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔ “آپریشن ہیروف 2.0” کے نام سے بی یال اے کی جانب سے کی گئی یہ کارروائیاں دراصل سکیورٹی فورسز کے حالیہ کامیاب آپریشنز کا ردِعمل تھیں، جن کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا۔
تاہم ریاستی اداروں کی بروقت، مربوط اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں نے ان حملوں کو ناکام بنا کر ایک بار پھر ریاستی استعداد اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو ثابت کیا۔
سکیورٹی آپریشنز: مؤثر ردِعمل اور اعداد و شمار
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کارروائیوں میں 130 بی ایل اے دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی عملی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے۔
اس کے ساتھ 11 سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ایک قومی سانحہ ہے، جو اس جنگ کی قیمت اور قربانیوں کی شدت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ قربانیاں محض اعداد نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے تحفظ کے لیے دی جانے والی انسانی قیمت ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے دہشت گردی سے متاثر ملک رہا ہے اور ہزاروں جوان اور شہری اس ناسور کے خاتمے کیلئے قربان کر چکا ہے۔
شہریوں پر بی ایل اے کے حملے
دہشت گردوں کی جانب سے 11 معصوم بلوچ شہریوں جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں، کو نشانہ بنانا اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ ایسے گروہ کسی سیاسی مقصد کے حامل نہیں بلکہ خالصتاً دہشت گردانہ ایجنڈا رکھتے ہیں۔ محنت مزدوری کے لیے گوادر آنے والے افراد پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا ہدف ریاست کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں، تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے۔
جغرافیائی پھیلاؤ اور آپریشنل تفصیلات
کوئٹہ، گوادر، قلات، نوشکی، دالبندین، پسنی، تمپ اور مستونگ سمیت متعدد مقامات پر حملوں کی کوششیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس جغرافیائی وسعت کے ذریعے ریاستی توجہ تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ہر مقام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری جوابی کارروائی نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔ یہ امر جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول، انٹیلی جنس شیئرنگ اور فیلڈ کوآرڈینیشن کا بہترین مظہر ہے۔
بیانیے کی جنگ
حملوں کے دوران افغان اور بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مخصوص بیانیے کو فروغ دینا انفارمیشن وار فیئر کی ایک واضح مثال ہے۔ جدید تنازعات میں پروپیگنڈا اور بیانیہ سازی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں ریاستی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق پر مبنی ابلاغ، شفاف معلومات اور بروقت تردید کے ذریعے غلط بیانی کا مؤثر توڑ کریں۔
دوسری جانب عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔
ریاستی حکمتِ عملی: انسدادِ دہشت گردی کا جامع فریم ورک
حالیہ واقعات اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ انسدادِ دہشت گردی محض عسکری کارروائی تک محدود نہیں ہو سکتا۔ تعاقبی آپریشنز، فضائی نگرانی، مالیاتی نیٹ ورکس کی روک تھام، سرحدی سکیورٹی اور کمیونٹی انگیجمنٹ، یہ سب ایک جامع حکمتِ عملی کا ثبوت ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کارروائیاں اس سمت میں اہم پیش رفت ہیں، تاہم پائیدار امن کے لیے گورننس، ترقی اور سماجی شمولیت ناگزیر ہے۔
وزارتِ داخلہ کا مؤقف اور قانونی پہلو
وزارتِ داخلہ کی جانب سے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ ریاستی قانونی فریم ورک کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ قانون کی بالادستی، شواہد پر مبنی تحقیقات اور عدالتی عمل ہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف سزا یقینی بنتی ہے بلکہ ریاستی بیانیے کی اخلاقی قوت بھی برقرار رہتی ہے۔
بین الاقوامی تناظر: علاقائی امن اور عالمی ذمہ داری
معصوم شہریوں کے قتل نے دہشت گرد گروہوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر گنجائش مزید کم کر دی ہے۔ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ شواہد کے ساتھ عالمی برادری کو متحرک کرے، جبکہ عالمی قوتوں پر لازم ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف یکساں معیار اپنائیں۔ علاقائی امن اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار نیٹ ورکس، مالی معاونت اور پروپیگنڈا چینلز کو مشترکہ کوششوں سے بند کیا جائے۔
نتیجہ: عزم، یکجہتی اور پائیدار امن
بلوچستان میں حالیہ ناکام حملے اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل اور کثیر الجہتی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قومی عزم کو مضبوط کرتی ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے ریاست، معاشرہ اور عالمی برادری، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قانون کی حکمرانی، ترقیاتی شمولیت اور مؤثر ابلاغ ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا