یکم فروری 2026 کو ملا ہیبت اللہ نے 20 اہم عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات جاری کیے، جن کا مقصد طاقت کے توازن کو مزید مستحکم کرنا بتایا جا رہا ہے

February 2, 2026

سورس کے مطابق جلال آباد ایئرپورٹ پر قندھار سے آئے طالبان گروپ اور مقامی اہلکاروں کے درمیان داخلے پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی تک جا پہنچی

February 2, 2026

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت مجید بریگیڈ سے وابستہ پہلی خاتون خودکش حملہ آور حوا بلوچ کی تصویر جاری کر دی، جبکہ ایک اور خاتون عاصفہ مینگل کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا ہے

February 2, 2026

افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے

February 2, 2026

افغان سفیر کے مطابق کابل اور ماسکو کے مابین براہِ راست پروازیں بڑھانے کے لیے نئی کوششیں جاری ہیں، جس سے تاجروں، طلبہ، مریضوں اور سیاحوں کے لیے سفری سہولتیں بہتر ہوں گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط مضبوط ہوں گے

February 2, 2026

مقامی ذرائع کے مطابق کشیدگی ایئر اسٹرپ کی نگرانی کے اختیارات پر پیدا ہوئی، جس میں قندھاری اور مقامی محافظ دستوں کے درمیان شدید ہوائی فائرنگ ہوئی

February 2, 2026

افغان عہدیدار کے سوشل میڈیا بیانات میں بی ایل اے کی حمایت، پاکستان کے شدید تحفظات

افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے
افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بلوچستان میں بی ایل اے کے حملوں کی حمایت اور پاکستان مخالف پیغامات شائع کیے، جس پر پاکستان نے شدید تشویش ظاہر کی ہے

بی ایل اے کی حمایت کرنے والے افغان عہدیدار عبد الرحمن عطاش، افغان رہنما سراج الدین حقانی سے ملاقات کر رہے ہیں

February 2, 2026

پاکستانی حلقوں نے افغان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی مبینہ طور پر پاکستان مخالف اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر افغانستان کی نیشنل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبد الرحمن عطاش کے نام سے منسوب اکاؤنٹ سے پوسٹس نشر کی گئی ہیں، جن میں بلوچستان میں بی ایل اے کی کاروائیوں کی حمایت اور پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

تصاویر میں اعلیٰ سطحی روابط
ان پوسٹس کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر میں عبد الرحمن عطاش کو افغانستان کے مولوی عبدالغنی برادر اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، جو مبینہ طور پر ان کے حکومتی حلقوں میں قریبی روابط کی نشاندہی کرتی ہیں۔

پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے اس معاملے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان افغان حکومت کے کسی بھی عہدیدار کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت یا اس کی ترغیب دینے والے بیانات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف پاکستان کے خلاف واضح جارحیت ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بھی ہیں۔‘‘

بین الاقوامی تناظر میں
بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر خودمختار ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کی آماجگاہ بننے سے روکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی تمام ممالک پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں دہشت گرد گروہوں کو تعاون فراہم نہ کریں۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر افغان عہدیدار کی جانب سے یہ بیانات تصدیق شدہ ہوں تو یہ پاک۔ افغان تعلقات میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت ہے۔ سابق سفیر اور امورِ افغانستان کے ماہر رستم شاہ مومن کے مطابق ایسی اشتعال انگیز سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں۔

دیکھیے: بلوچستان اور بیانیے کی جنگ

متعلقہ مضامین

یکم فروری 2026 کو ملا ہیبت اللہ نے 20 اہم عہدوں پر تقرریوں اور تبادلوں کے احکامات جاری کیے، جن کا مقصد طاقت کے توازن کو مزید مستحکم کرنا بتایا جا رہا ہے

February 2, 2026

سورس کے مطابق جلال آباد ایئرپورٹ پر قندھار سے آئے طالبان گروپ اور مقامی اہلکاروں کے درمیان داخلے پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی تک جا پہنچی

February 2, 2026

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت مجید بریگیڈ سے وابستہ پہلی خاتون خودکش حملہ آور حوا بلوچ کی تصویر جاری کر دی، جبکہ ایک اور خاتون عاصفہ مینگل کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا ہے

February 2, 2026

افغان سفیر کے مطابق کابل اور ماسکو کے مابین براہِ راست پروازیں بڑھانے کے لیے نئی کوششیں جاری ہیں، جس سے تاجروں، طلبہ، مریضوں اور سیاحوں کے لیے سفری سہولتیں بہتر ہوں گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط مضبوط ہوں گے

February 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *