پاکستانی حلقوں نے افغان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی مبینہ طور پر پاکستان مخالف اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر افغانستان کی نیشنل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبد الرحمن عطاش کے نام سے منسوب اکاؤنٹ سے پوسٹس نشر کی گئی ہیں، جن میں بلوچستان میں بی ایل اے کی کاروائیوں کی حمایت اور پاکستان کے خلاف مسلح کاروائیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔
تصاویر میں اعلیٰ سطحی روابط
ان پوسٹس کے ساتھ شیئر کی گئی تصاویر میں عبد الرحمن عطاش کو افغانستان کے مولوی عبدالغنی برادر اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے، جو مبینہ طور پر ان کے حکومتی حلقوں میں قریبی روابط کی نشاندہی کرتی ہیں۔
Alert: The Facebook account linked to Afghan Govt Official Abdul Rahman Attash, Chief Executive Officer of the National Development Corporation of Afghanistan, posted in support of BLA's attacks in Balochistan and also messaged those not fighting Pakistan to take up arms against… pic.twitter.com/gQwFfMsIzq
— Mahaz (@MahazOfficial1) February 1, 2026
پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے اس معاملے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان افغان حکومت کے کسی بھی عہدیدار کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت یا اس کی ترغیب دینے والے بیانات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف پاکستان کے خلاف واضح جارحیت ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بھی ہیں۔‘‘
بین الاقوامی تناظر میں
بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر خودمختار ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کی آماجگاہ بننے سے روکے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی تمام ممالک پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں دہشت گرد گروہوں کو تعاون فراہم نہ کریں۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر افغان عہدیدار کی جانب سے یہ بیانات تصدیق شدہ ہوں تو یہ پاک۔ افغان تعلقات میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت ہے۔ سابق سفیر اور امورِ افغانستان کے ماہر رستم شاہ مومن کے مطابق ایسی اشتعال انگیز سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں۔
دیکھیے: بلوچستان اور بیانیے کی جنگ