امارتِ اسلامیہ افغانستان کے روس میں سفیر گل حسن نے اعلان کیا ہے کہ کابل اور ماسکو کے مابین براہِ راست فضائی روابط کو مزید وسیع کرنے کے لیے نئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے شہریوں، تاجروں اور طلبہ کے لیے سفری سہولیات میں بہتری لانا اور دو اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
موجودہ پروازوں کی صورتحال
افغان سفیر کے مطابق گزشتہ چار سالوں سے ارینا افغان ایئر لائنز کے ذریعے کابل اور ماسکو کے درمیان ہفتے میں ایک براہِ راست پرواز کا باقاعدہ سلسلہ جاری ہے، جو دونوں ممالک کے مابین اہم فضائی پل کا کام کر رہی ہے۔
نئے منصوبے
حال ہی میں افغان ایئر لائن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے نئی براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ بھی حتمی مراحل میں ہے۔ اس اضافے سے نہ صرف پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ پروازوں کے اوقات اور دستیابی میں بھی سہولت پیدا ہوگی۔
اقتصادی و تجارتی اثرات
ماہر اقتصادیات ڈاکٹر نوید احمد کے مطابق “یہ فضائی توسیع افغانستان اور روس کے درمیان تجارت، بالخصوص خشک میوہ جات، قالین اور معدنیات کی برآمدات کے لیے نئے دروازے کھولے گی۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین سالانہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔”
سیاحتی و تعلیمی پہلو
اس اقدام کے تحت نہ صرف تاجروں بلکہ طلبہ، طبی مریضوں اور سیاحوں کے لیے بھی سفری راستے کھلیں گے۔ روس میں زیر تعلیم افغان طلبہ کی ایک بڑی تعداد اس اقدام سے براہِ راست مستفید ہوگی۔
علاقائی تناظر
مذکورہ اقدام افغانستان کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر فضائی پابندیوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ روس کے ساتھ مضبوط فضائی روابط خطے میں افغانستان کے اقتصادی و سفری اختیارات میں اضافہ کریں گے۔
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت