ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں واقع ایئرپورٹ پر طالبان کے دو مختلف گروپوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 3 اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ سورس کے مطابق واقعہ جلال آباد ایئرپورٹ کے مرکزی داخلی دروازے پر پیش آیا، جہاں قندھار سے آئے طالبان اہلکاروں کا ایک گروپ ایئرپورٹ کے احاطے میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ مقامی سطح پر تعینات طالبان اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ ابتدائی طور پر یہ معاملہ زبانی بحث تک محدود تھا، مگر صورتحال تیزی سے بگڑ گئی اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔
آخر میں قندھاری طالبان نے فائر کھول دیا، جس پر ایئرپورٹ کی سکیورٹی پر تعینات 3 اہلکار صبیح اللہ، دولت خان اور زاہد شیر زخمی ہوگئے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اختیارات سے تجاوز کا الزام عائد کیا گیا۔ مقامی طالبان اہلکاروں کا موقف تھا کہ ایئرپورٹ جیسے حساس مقام پر کسی بھی اضافی یا بیرونی دستے کی آمد متعلقہ مقامی کمانڈ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ قندھار سے آئے گروپ کا کہنا تھا کہ انہیں اعلیٰ سطح سے ہدایات موصول ہوئی ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل بڑھا دیا گیا اور غیر ضروری نقل و حرکت محدود کر دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عام شہریوں اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد رہی تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے
دیکھیے: سی ایس ٹی او کی تاجکستان کو افغان سرحد سے دراندازی روکنے کے لیے فوجی معاونت