نیپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک اور جان لیوا وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کا اصل میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں جو بغیر کسی بیماری کے اس وائرس کو اپنے اندر رکھتی ہیں۔ چمگادڑوں کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھل، پانی یا خوراک کے ذریعے یہ وائرس سوروں اور دیگر جانوروں میں منتقل ہوتا ہے، جہاں سے انسان اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔
انسانوں میں نیپاہ وائرس متاثرہ جانوروں کے قریب رہنے، ان کے جسمانی اخراجات، یا متاثرہ مریض سے قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا لیکن براہِ راست رابطہ اس کے پھیلاؤ کا بڑا سبب بنتا ہے۔ بیماری کی علامات میں تیز بخار، شدید سر درد، قے، بے ہوشی، تشنج اور دماغی سوزش شامل ہیں، جبکہ کئی مریض جانبر نہیں ہو پاتے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نیپاہ وائرس کی شرحِ اموات بعض اوقات 70 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور تاحال اس کا کوئی مؤثر علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔
ایسے میں نیپاہ وائرس کا بھارت میں سامنے آنا ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہاں کرکٹ جیسے بڑے عالمی ایونٹس کا انعقاد متوقع ہو۔ ورلڈ کپ کے دوران مختلف ممالک سے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی آمد ہوتی ہے، جس سے احتیاطی تدابیر کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ اگرچہ نیپاہ وائرس تیزی سے پھیلنے والی وبا نہیں، مگر کسی بھی قسم کی غفلت حالات کو سنگین بنا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سخت طبی نگرانی، شفاف معلومات کی فراہمی اور احتیاطی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ صحتِ عامہ کے تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ کسی بھی عالمی ایونٹ کی کامیابی کا دار و مدار انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ہوتا ہے۔
دیکھیے: کشتواڑ میں پندرہ روز سے جاری جھڑپوں میں بھارتی فوج کو جانی نقصان، سرچ آپریشنز میں تیزی