مددگار یا مکار؟ سوات واقعہ اور پولیس کی خاتون سے زیادتی

مددگار یا مکار؟

سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔

پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں بھارت اور اسرائیل کا کردار

پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں بھارت اور اسرائیل کا کردار

اس تمام تر سرگرمی کے پیچھے حکمتِ عملی نہایت سادہ مگر خطرناک دکھائی دیتی ہے: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا، بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دینا اور عالمی سطح پر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا جس میں دہشت گردی کو “انسانی حقوق کی جدوجہد” کے طور پر پیش کیا جائے۔

February 3, 2026

دہشت گردی پاکستان کے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں، مگر حالیہ انکشافات اس خطرے کی نوعیت کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ اب یہ معاملہ محض داخلی سلامتی تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم بین الاقوامی بیانیاتی اور عملی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیلی مورخ ڈاکٹر ہائم بریشیتھ زابنر کا یہ کہنا کہ اسرائیل پاکستان پر حملوں کے لیے بلوچ عسکریت پسندوں، خصوصاً بی ایل اے کی حمایت کر رہا ہے، اس بدلتے ہوئے منظرنامے کی ایک اہم کڑی ہے۔


یہ دعویٰ بظاہر کچھ حلقوں کے لیے چونکا دینے والا ہو سکتا ہے تاہم پاکستان کے سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ کوئی نئ پیش رفت نہیں۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پراکسی نیٹ ورکس کے استعمال کے الزامات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، اور اب اسرائیل کی مبینہ شمولیت اس گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس تناظر میں امریکہ میں قائم نام نہاد تھنک ٹینک میمری کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے، جسے سابق موساد اہلکار چلاتے ہیں اور جس نے بلوچستان ڈیسک قائم کر کے میر یار بلوچ جیسے متنازع کرداروں کو نمایاں کیا۔


اس تمام تر سرگرمی کے پیچھے حکمتِ عملی نہایت سادہ مگر خطرناک دکھائی دیتی ہے:
پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا، بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دینا اور عالمی سطح پر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا جس میں دہشت گردی کو “انسانی حقوق کی جدوجہد” کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہ تین جہتی منصوبہ دہشت گردی، نفسیاتی جنگ اور نام نہاد انسانی حقوق کی مہم پر مشتمل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو سفارتی اور اخلاقی دباؤ میں مبتلا کرنا ہے۔


اس صورتحال میں پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔


پاکستان کی خودمختاری اور استحکام کو نشانہ بنانے والی اس منظم مہم کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ بیانیے سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وہ محاذ ہے جہاں فیصلہ ہوگا کہ سچ غالب آتا ہے یا یہ سرد جنگ یونہی جاری رہتی ہے۔


دیکھیے: آپریشن ہیروف ناکام: پاکستانی فورسز کی فتح اور درپیش چیلنجز

متعلقہ مضامین

بنوں کے علاقے بکاخیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دہشت گرد کمانڈر گرینڈ ہلاک ہوگیا۔

November 5, 2026

اسلام آباد میں نمل یونیورسٹی روڈ پر کار اور موٹر سائیکل کے تصادم میں 5 افراد زخمی ہو گئے، دو لڑکیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

November 5, 2026

سعودی عرب نے مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا، عسکری اتحاد نے واقعے کی تصدیق کردی۔

November 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف پروگرام کے تحت مستحق شہریوں کو سبسڈی نہ دینے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

November 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *