پاکستان اور چینی حکام نے دیگر اہم خطائی شراکت داروں کے ہمراہ چار طرفہ عبوری ٹریفک معاہدے کے حوالے سے اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس کا مقصد پاکستان کے سمندری بندرگاہوں بالخصوص گوادر سے وسطی ایشیا تک سی پیک کی راہوں کے ذریعے تجارتی نقل و حمل کے عمل کو ہموار اور مؤثر بنانا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ وسطی ایشیا کے لیے پاکستان کے سمندری بندرگاہوں تک رسائی کا سب سے مختصر اور اقتصادی راستہ فراہم کرے گا۔
اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس راستے پر گزشتہ چند سالوں سے محدود پیمانے پر ٹریفک جاری تھی، لیکن حالیہ مہینوں میں اس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی تجارتی ضروریات اور چار طرفہ عبوری ٹریفک معاہدہ کی اہمیت کی غمازی کرتا ہے۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کچھ تکنیکی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ یہ راستہ مکمل طور پر محفوظ، تیز رفتار اور مسابقتی تجارتی شاہ رگ بن سکے۔
معاہدے کی تجاویز کردہ اصلاحات میں ڈیجیٹل اور خودکار کسٹم کلیئرنس سسٹم کا نفاذ، ٹرانزٹ وقت میں کمی کے لیے لاجسٹکس کی بہتری، ٹرکوں اور مال برداری کے یکساں حفاظتی معیارات کا تعین، اور شریک ممالک کے درمیان بروقت معلومات کے تبادلے کا مربوط نظام شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اصلاحات جلد مکمل ہو جائیں گی، جس کے بعد یہ راستہ نہ صرف پاکستان کی سمندری بندرگاہوں کے ساتھ وسطی ایشیا کا سب سے مؤثر تجارتی پُل بنے گا بلکہ اس سے ٹرانسپورٹ لاگت میں 30 سے 40 فیصد تک کمی متوقع ہے۔
Chaired a meeting of Pakistani stakeholders and Chinese officials on Quadrilateral Traffic in Transit Agreement (QTTA) which regulates connection from Paksitani ports to Central Asia via China using CPEC routes. Some traffick on this route had been continuing for years but it is… pic.twitter.com/RxazmTNRDh
— Mohammad Sadiq (@AmbassadorSadiq) February 4, 2026
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چار طرفہ عبوری ٹریفک معاہدہ کا کامیاب نفاذ سی پیک کی افادیت میں اضافہ کرے گا اور وسطی ایشیا کو عالمی منڈیوں سے مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے پاکستان کی ٹرانزٹ آمدنی میں اضافہ، تجارتی فاصلوں میں نمایاں کمی اور گوادر بندرگاہ کے خطے میں مرکزی تجارتی حب کے طور پر ابھرنے کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ خطے کی تجارتی حرکیات کو یکسر تبدیل کر کے پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے کلیدی تجارتی مرکز کے طور پر مستحکم کرے گا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ایک مشترکہ تکنیکی ورکنگ گروپ دو ہفتوں کے اندر اصلاحات کا حتمی مسودہ تیار کرے گا، جس کے بعد وزیر سطح کے اجلاس میں اس پر حتمی منظوری اور دستخط متوقع ہیں۔ پاکستانی حکام نے معاہدے کو علاقائی معاشی انضمام کی بنیاد قرار دیا ہے، جو سی پیک کو ایک دو ملکی منصوبے سے آگے بڑھ کر ایک علاقائی ترقیاتی نیٹ ورک میں تبدیل کر دے گا۔
دیکھیے: بلوچستان کی سیکورٹی فائل