رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 11 منٹ پر اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

March 24, 2026

امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے

March 23, 2026

تاجکستان کی اپنی سرمایہ کاری محض 151.2 ملین ڈالر ہے، جو کل فنڈنگ کا صرف 3.2 فیصد بنتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے بڑے منصوبے بیرونی وسائل پر منحصر ہیں۔

March 23, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں

March 23, 2026

سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام تنازعات کا حل نکالنا ہے۔ امریکی ذریعے کے مطابق ثالثی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔”

March 23, 2026

عالمی سطح پر توانائی بحران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے بھارت جیسے بڑے درآمدی ملک کو براہ راست متاثر کیا ہے، جس کے اثرات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے

March 23, 2026

کابل میں سابق امریکی سفارت خانہ مدرسہ بن گیا؛ ناقدین نے افغان حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کابل میں سابق امریکی سفارت خانہ مدرسہ بن گیا؛ ناقدین نے افغان حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں طالبان کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں 23 ہزار سے زائد مدارس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رسمی اسکول اور جامعات، خصوصاً لڑکیوں کے لیے، یا تو بند ہیں یا شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔

February 8, 2026

کابل میں بند امریکی سفارت خانے کے ایک حصے کو طالبان کی جانب سے مذہبی مدرسے میں تبدیل کرنا اُن کے مجموعی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ریاستی اور بین الاقوامی نوعیت کی اہم عمارتوں کو سفارتی، انتظامی یا عوامی مقاصد کے بجائے نظریاتی اہداف کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان اس اقدام کے ذریعے کثیرالجہتی حکمرانی اور عالمی برادری سے روابط کو مسترد کرتے ہوئے ایک محدود نظریاتی نظام کو فروغ دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سابق امریکی سفارت خانے کے احاطے میں بچوں اور کم عمر طلبہ کو مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام تعلیمی نظام اب جدید مضامین، تنقیدی سوچ اور شہری شعور سے محروم ہو چکا ہے، جبکہ صرف وہی مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے جو طالبان کے مخصوص نظریے سے ہم آہنگ ہو۔ لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور جامعات کی مسلسل بندش اس امر کو مزید واضح کرتی ہے کہ مسئلہ تعلیم تک رسائی کا نہیں بلکہ نظریاتی کنٹرول کا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام طالبان کے اُس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت 2021 کے بعد افغانستان کے عوامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو ازسرِنو نظریاتی سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے۔ سرکاری عمارتیں، تعلیمی ادارے اور انتظامی مراکز بتدریج غیرجانبدار ریاستی اداروں کے بجائے مذہبی اتھارٹی کے ماتحت آتے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں طالبان کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں 23 ہزار سے زائد مدارس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رسمی اسکول اور جامعات، خصوصاً لڑکیوں کے لیے، یا تو بند ہیں یا شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں خوراک کی امداد، روزگار یا سماجی سہولیات تک رسائی کو طالبان کی منظور شدہ مذہبی تعلیم سے مشروط کیا جا رہا ہے، جسے ماہرین ایک جابرانہ نظام قرار دیتے ہیں جو بچوں کو انتہا پسند نظریات کے زیرِ اثر ماحول میں دھکیل رہا ہے۔

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 11 منٹ پر اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

March 24, 2026

امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے

March 23, 2026

تاجکستان کی اپنی سرمایہ کاری محض 151.2 ملین ڈالر ہے، جو کل فنڈنگ کا صرف 3.2 فیصد بنتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کے بڑے منصوبے بیرونی وسائل پر منحصر ہیں۔

March 23, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں

March 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *