یوناما کی تازہ رپورٹ بین الاقوامی اداروں کی دوغلی پالیسی کی آئینہ دار ہے، جو صرف ایک رُخ دیکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ رپورٹ نے پاکستان کے دفاعی اقدامات پر تو آنسو بہائے، لیکن ان افغانستان سے منصوبہ بند دہشتگرد حملوں کا ذکر تک نہیں کیا جنہوں نے 2025 میں ہی 1,957 پاکستانی شہریوں کو شہید اور 3,603 کو زخمی کیا۔ ظاہر ہے، یوناما کی ہمدردی سرحد کے ایک خاص طرف ہی محدود رہتی ہے

February 9, 2026

سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے

February 9, 2026

رپورٹس میں سنگین انکشاف: بھارتی وزارت دفاع کا ڈی پی آر ملک و بیرون ملک بیانیہ بنانے اور مخالف بیانیے کو ناکام کرنے کے لیے 10,000 سے زائد اہلکار اور اربوں روپے کا بجٹ استعمال کر رہا ہے

February 9, 2026

سابق پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی نے بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات کے دوران کشیدگی پر کہا: تم لوگوں نے ہاتھ نہ ملا کر جو گھٹیا حرکت کی تھی، اب تمہارا وہ حشر ہوگا کہ چیخیں ساری دنیا سنے گی

February 9, 2026

راولپنڈی میں دورانِ خطاب مولانا فضل الرحمان کے بیان کے بعد سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی، افغان تعلقات اور پاکستان کی بارڈر پالیسی پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قانونی تجارت اور غیر قانونی دراندازی میں فرق، دہشت گرد نیٹ ورک کی پیچیدگیاں اور پاکستان کی کوششیں زیرِ غور ہیں

February 9, 2026

بدخشاں میں مبینہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کیس میں قاری محمد عاصف پر ویڈیوز کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے، بعد ازاں انہیں نئے قانون کے تحت رہا بھی کر دیا گیا

February 9, 2026

یوناما رپورٹ: پاکستانیوں کے لہو سے سجی سرحد کے سائے میں ایک نامکمل کہانی

یوناما کی تازہ رپورٹ بین الاقوامی اداروں کی دوغلی پالیسی کی آئینہ دار ہے، جو صرف ایک رُخ دیکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ رپورٹ نے پاکستان کے دفاعی اقدامات پر تو آنسو بہائے، لیکن ان افغانستان سے منصوبہ بند دہشتگرد حملوں کا ذکر تک نہیں کیا جنہوں نے 2025 میں ہی 1,957 پاکستانی شہریوں کو شہید اور 3,603 کو زخمی کیا۔ ظاہر ہے، یوناما کی ہمدردی سرحد کے ایک خاص طرف ہی محدود رہتی ہے
یوناما کی تازہ رپورٹ بین الاقوامی اداروں کی دوغلی پالیسی کی آئینہ دار ہے، جو صرف ایک رُخ دیکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ رپورٹ نے پاکستان کے دفاعی اقدامات پر تو آنسو بہائے، لیکن ان افغانستان سے منصوبہ بند دہشتگرد حملوں کا ذکر تک نہیں کیا جنہوں نے 2025 میں ہی 1,957 پاکستانی شہریوں کو شہید اور 3,603 کو زخمی کیا۔ ظاہر ہے، یوناما کی ہمدردی سرحد کے ایک خاص طرف ہی محدود رہتی ہے

یوناما کو غیر جانبدار رپورٹنگ کرتے ہوئے دہشت گردی سے متاثر تمام شہریوں کو یکساں اہمیت دینی چاہیے، طالبان حکومت کو دہشت گردوں کی سرپرستی کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے، اور پاکستان کے حقِ خود دفاع کو تسلیم کرنا چاہیے

February 9, 2026

اقوامِ متحدہ کے مشن برائے امداد افغانستان (یوناما) کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک پرانی بحث کو پھر سے ہوا دے دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے سرحد پار کی گئی کارروائیوں کے نتیجے میں افغان شہری ہلاکتوں کا ذکر تو ہے، مگر یہ تصویر کا محض ایک رُخ ہے پوری کہانی نہیں۔ یہ کہانی کا صرف ایک باب بیان کرتی ہے، جبکہ اس المیے کی اصل کتاب کا پہلا صفحہ اُس دن لکھا گیا تھا جب افغانستان میں پلنے والے دہشت گرد گروہوں نے پاکستانی سرزمین کو اپنے خونخوار عزائم کا نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔

یوناما کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران 70 ہلاکتیں، 478 زخمی۔ ہر ایک جان قیمتی ہے۔ مگر کیا رپورٹ مرتب کرنے والوں نے کبھی پاکستان کے اعداد دیکھے؟ صرف 2025 میں ہی دہشت گردی کے 1,957 پاکستانی شہداء، 3,603 زخمی۔ کیا ان پاکستانی ماؤں، بہنوں اور بچوں کے آنسوؤں کی قیمت نہیں کوئی پرسانِ حال نہیں؟ کیا سرحد کے اس پار کے غم کا درجہ اس پار کے غم سے بلند و بالا ہے؟

یہ رپورٹ ایک خطرناک یک طرفگی کا شکار ہے۔ اس نے اثر و مسئلے کو تو بیان کیا ہے، لیکن سبب کی پردہ پوشی کی ہے۔ سبب وہ ہے جب طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں کو اپنے ہاں پناہ دی، ان کے تربیتی کیمپ کھلے چھوڑ دی اور پاکستان کے خلاف ان کی کاروائیوں پر سُکوت اختیار کی۔ پاکستان نے صبر کا ہر پہاڑ توڑا۔ چار مرتبہ وزیر خارجہ کے دورے، سیکڑوں فلیگ میٹنگیں، لاتعداد سفارتی وارننگ۔ ہر کوشش کا جواب دہشت گردی کے ایک نئے واقعے سے ملا۔

پاکستان کی کاروائیاں جارحیت یا ظالمانہ نہیں تھیں۔ یہ انتہائی احتیاط سے منتخب کردہ، انٹیلی جنس پر مبنی، اور صرف تصدیق شدہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہدف بندی تھی۔ جب سرحد کے اس پار سے بارود کی بو آتی ہو، تو سرحد کے اس پار بیٹھنا خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان نے اپنے وجود کے تحفظ کے حق میں، جو بین الاقوامی قانون سے اسے حاصل ہے، وہ اقدام اٹھایا۔

رپورٹ کا اصل کمزور پہلو اس کا ماخذ ہے۔ یہ بنیادی طور پر طالبان حکومت کے دعوؤں پر مبنی ہے، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دہشت گردی کی دنیا میں یہ ایک معلوم حربہ ہے: اپنے جنگجوؤں کو شہری بنا کر پیش کرنا۔ کیا یوناما کو ان افغان شہریوں کے جنازوں کی فہرست بھی دستیاب ہے جو پاکستان میں کیے گئے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہوئے؟

یوناما کا یہ رویہ بین الاقوامی اداروں کی اس عمومی روش کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان جیسے دہشت گردی سے براہ راست متاثرہ ممالک کے دفاعی اقدامات کو مشکوک نظر سے دیکھتی ہے۔ جب پاکستان دہشت گردوں کا پیچھا کرتا ہے تو “خود دفاع” کے حق پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، لیکن جب پاکستانی شہری مارے جاتے ہیں تو خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟

نتیجہ یہ ہے کہ یہ رپورٹ نہ صرف نامکمل ہے بلکہ خطرناک حد پر گمراہ کن بھی۔ یہ طالبان حکومت کو اس کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر یوناما واقعی انسانی ہمدردی کا ترجمان بننا چاہتا ہے، تو اسے دہشت گردی کے تمام شکاروں، چاہے وہ کسی بھی طرف ہوں، کے لیے یکساں آواز اٹھانی چاہیے۔ اسے طالبان حکومت کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنا، خطے کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنا ہے۔


پاکستان امن چاہ کا خواہاں ہے، لیکن امن ایک طرفہ نہیں ہو سکتا۔ یوناما کی رپورٹ کو پاکستان کے خلاف ایک سیاسی بیانے سے زیادہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ حقیقی رپورٹ تو وہ ہے جو پاکستان کے شہری ہر روز اپنے خون سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی قربانیوں کو نظرانداز کر کے کبھی بھی حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔

دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت

متعلقہ مضامین

سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے

February 9, 2026

رپورٹس میں سنگین انکشاف: بھارتی وزارت دفاع کا ڈی پی آر ملک و بیرون ملک بیانیہ بنانے اور مخالف بیانیے کو ناکام کرنے کے لیے 10,000 سے زائد اہلکار اور اربوں روپے کا بجٹ استعمال کر رہا ہے

February 9, 2026

سابق پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی نے بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات کے دوران کشیدگی پر کہا: تم لوگوں نے ہاتھ نہ ملا کر جو گھٹیا حرکت کی تھی، اب تمہارا وہ حشر ہوگا کہ چیخیں ساری دنیا سنے گی

February 9, 2026

راولپنڈی میں دورانِ خطاب مولانا فضل الرحمان کے بیان کے بعد سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی، افغان تعلقات اور پاکستان کی بارڈر پالیسی پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قانونی تجارت اور غیر قانونی دراندازی میں فرق، دہشت گرد نیٹ ورک کی پیچیدگیاں اور پاکستان کی کوششیں زیرِ غور ہیں

February 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *