افغانستان میں طالبان انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) سے وابستہ مبینہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک جعلی پراپیگنڈا مہم کا انکشاف ہوا ہے، جس میں کراچی کے ایک معروف تاجر کو داعش خراسان کا کمانڈر قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم مبصرین کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ اکاؤنٹس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں واقع علاقے تیراہ میں داعش خراسان کی موجودگی کے جھوٹے دعوے کرتے رہے۔
ان اکاؤنٹس نے “حافظ زبیر موحد” کے نام سے ایک فرضی نام کا دعوی کیا اور اسے تیراہ میں داعش خراسان کا کمانڈر بتایا۔ انہوں نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ شخص اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کے وقت وفاقی دارالحکومت میں موجود تھا۔
تاہم تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ان اکاؤنٹس کی پھیلائی گئی تصویر دراصل کراچی کے ایک معروف تاجر اور پراپرٹی ڈیلر حافظ محمد کی تھی، جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں اور جن کا نہ تو داعش سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ کبھی تیراہ کے علاقے میں گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک منظم پراپیگنڈا تھا جس میں ایک عام شہری کی شناخت کو مسخ کر کے اسے دہشتگرد قرار دیا گیا۔
Alert: Accounts linked to Taliban intelligence exposed for propaganda, declaring a well-known Karachi businessman as an ISIS-Khorasan commander.
— Mahaz (@MahazOfficial1) February 9, 2026
For the past three weeks, accounts linked to Taliban intelligence (GDI) have been spreading propaganda about the presence of ISKP in… pic.twitter.com/GgKKLYmDby
اس انکشاف کے بعد سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا طالبان حکومت سے منسلک حلقے مقبوضہ علاقوں میں داعش کی موجودگی کے دعوؤں کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے جعلی بیانیے تشکیل دے رہے ہیں۔ کراچی کے تاجر حافظ محمد کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس پر ان کی عام سرگرمیاں اس بات کی واضح تردید کرتی ہیں کہ ان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ہو۔