بلوچستان میں سیاسی اور سکیورٹی واقعات نے صوبے کی سیاسی صورتحال اور عوامی اعتماد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ معروف سیاستدان اختر مینگل کا رویہ اور بیانات صوبائی عوامی مسائل کے مقابلے میں ذاتی مفادات اور ناکامیوں پر مرکوز نظر آتے ہیں۔
آج میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف سیاستدان میر ندیم الرحمان نے اختر مینگل کی بلوچستان میں جاری سیاست پر کھل کر بات کی اور ان کے مفاد پرستانہ رویے کو بے نقاب کیا۔ انٹرویو میں کہا گیا کہ اختر مینگل برسوں سے صوبے کے عوامی مسائل کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں اور اپنی سیاسی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر منتقل کرتے ہیں
انکے مطابق اختر مینگل کا مفاد پرستانہ رویہ برسوں سے جاری ہے۔ بالخصوص 2022 میں انہوں نے عمران خان کی حکومت گرانے کے عمل میں بھرپور کردار ادا کیا تاکہ بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کی جا سکے۔ تاہم یہ خواہش پوری نہ ہو سکی تو وہ صوبے کے مسائل، محرومیاں اور عوامی شکایات کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنے لگے۔
اختر مینگل برسوں تک مختلف عہدوں میں رہنے کے باوجود بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کی حقیقی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر سکے۔ اقتدار ہاتھ سے نکلنے کے بعد انہوں نے ’’مسنگ پرسنز‘‘، دہشت گردی اور ریاست کے خلاف بیانیہ استعمال کیا، جبکہ کل تک انہی عناصر پر خاموشی اختیار کی جاتی رہی۔
موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے غیر قانونی مائننگ لیز اور زمینوں کے ٹھیکوں کی چھان بین کے دوران اختر مینگل اور قریبی عزیزوں کے نام پر درجنوں غیر قانونی لائسنس سامنے آئے جو برسوں سے منافع کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔ حکومت کی جانب سے ان لیزز اور ٹھیکوں کی منسوخی پر اختر مینگل کی ناراضگی کھل کر سامنے آئی اور معاملہ صرف سیاست تک محدود نہ رہ کر ذاتی مفادات کے تحفظ کی جنگ میں بدل گیا۔
(68) Young Baloch Politician Speaks for Pakistan | Hamid Mir Lies Exposed | Dr Farhan Virk – YouTube
ذرائع کے مطابق اختر مینگل کو دبئی جانے سے روکنے پر انہوں نے اس فیصلے کو اپنی ذاتی توہین قرار دے کر مزید محاذ آرائی شروع کر دی۔ اس کے علاوہ حالیہ ناکام بی ایل اے آپریشن (ہیروف 2) کے دوران بھی ان کی سیاسی امیدیں پوری نہ ہو سکیں، کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو پسپا کر کے ان کے سیاسی منصوبوں کو ناکام بنایا۔
ماہرین کے مطابق اختر مینگل کے حالیہ بیانات زمینی حقائق سے زیادہ ذاتی محرومی اور سیاسی ناکامی کا اظہار ہیں۔ اگر انہیں وزارتِ اعلیٰ دی جائے تو وہ کل بھی اپنے بیانیے میں مثبت دعوے کریں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سیاست عوامی درد کی بجائے ذاتی مفاد پر مبنی ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام کے حقیقی مسائل اور سکیورٹی خطرات بعض سیاستدانوں کی ذاتی خواہشات اور مفاد پرستی کے لیے بیانیہ کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ عوامی فلاح و بہبود اور حقیقی ترقی پیچھے رہ جاتی ہے۔
دیکھیے: ازبک صدر شوکت مرزایوف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے