"> کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی ساکھ بے نقاب - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی ساکھ بے نقاب

تحقیقات اور دینی اداروں کے تازہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی شناخت میں تنازعات ہیں، جن میں اس کے دادا کی برٹش آرمی کے ساتھ مخبری اور اس کی اسناد کی منسوخی شامل ہے
تحقیقات اور دینی اداروں کے تازہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی شناخت میں تنازعات ہیں، جن میں اس کے دادا کی برٹش آرمی کے ساتھ مخبری اور اس کی اسناد کی منسوخی شامل ہے

تحقیقات اور دینی اداروں کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سرغنہ نور ولی محسود کی تاریخی مخبری اور مذہبی اسناد کی منسوخی اس کی جعلی شناخت اور بیرونی ایجنڈے پر عمل کے ثبوت ہیں

February 10, 2026

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حوالے سے سنسنی خیز تاریخی حقائق اور اس کی مذہبی اسناد کی منسوخی سامنے آئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق نور ولی محسود کے دادا برطانوی راج کے دوران انگریز فوج کے لیے مخبر کے طور پر کام کرتے تھے اور اپنے ہی قبیلے (محسود) کے افراد کی معلومات فراہم کرنے کے بدلے گورا سرکار سے مراعات اور وظیفہ حاصل کرتے رہے۔ ان خدمات کے بدلے انہیں جنوبی وزیرستان میں ایک بڑا مکان بھی تحفے میں دیا گیا۔

تاریخی پس منظر اور مخبری کی یہ داستان واضح کرتی ہے کہ نور ولی محسود کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کی جڑیں محض ذاتی مفاد اور بیرونی ایجنڈوں سے منسلک ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ مذہبی اور عسکری لبادہ اوڑھ کر اپنے ہی معاشرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

کراچی کے معروف دینی ادارے ‘جامعہ دارالعلوم یسین القرآن’ نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ ادارے کے مطابق مذکورہ شخص کا جامعہ سے کوئی تعلق نہیں اور اگر اس کے نام سے کوئی سند جاری کی گئی تھی تو اسے فوری طور پر منسوخ تصور کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق نور ولی محسود، جسے 1,800 سے زائد علمائے کرام پہلے ہی ‘خارجی’ قرار دے چکے ہیں، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بیرونی ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔ یہ انکشافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ایک ‘جعلی مفتی’ ہے بلکہ اس کی جڑیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف مخبری کرنے والی تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں، جس کا مقصد محض ذاتی مفاد اور انتشار پھیلانا ہے۔

ماہرین کے مطابق نور ولی محسود کی قیادت میں کالعدم گروہ کی سرگرمیاں قومی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ سکیورٹی ادارے مسلسل ان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ ان کے متعدد نیٹ ورک پہلے ہی ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان کی سرگرمیوں کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امن کو متاثر کریں گی بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔

دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *