تحقیقات اور دینی اداروں کے تازہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی شناخت میں تنازعات ہیں، جن میں اس کے دادا کی برٹش آرمی کے ساتھ مخبری اور اس کی اسناد کی منسوخی شامل ہے

February 10, 2026

اختر مینگل کے حالیہ بیانات اور بی ایل اے کے پس منظر میں بلوچستان میں سیاسی مفاد پرستی اور ذاتی محرومی کی عکاسی سامنے آئی، جہاں عوامی مسائل کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

February 10, 2026

ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر کمال خرازی نے مسقط میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کو مثبت قرار دیتے ہوئے سفارتی عمل کے تسلسل کی امید ظاہر کی ہے

February 10, 2026

کانفرنس میں علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اظہارِ رائے بعض اوقات محدود اور دوہرے معیار کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر سوالات کو دبایا جاتا ہے

February 10, 2026

چین کے لیے ترکستان اسلامک پارٹی خاص تشویش کا باعث ہے، جو شامی جنگ کا تجربہ رکھنے والا ایغور عسکری نیٹ ورک ہے اور جسے بیجنگ سنکیانگ کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، حالانکہ چین کی افغانستان کے ساتھ سرحد محض 76 کلومیٹر ہے۔

February 10, 2026

بلوچستان میں بسوں سے مسافروں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کے واقعات نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی، متاثرہ خاندانوں اور عوام نے دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا

February 10, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی ساکھ بے نقاب

تحقیقات اور دینی اداروں کے تازہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی شناخت میں تنازعات ہیں، جن میں اس کے دادا کی برٹش آرمی کے ساتھ مخبری اور اس کی اسناد کی منسوخی شامل ہے
تحقیقات اور دینی اداروں کے تازہ انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی شناخت میں تنازعات ہیں، جن میں اس کے دادا کی برٹش آرمی کے ساتھ مخبری اور اس کی اسناد کی منسوخی شامل ہے

تحقیقات اور دینی اداروں کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سرغنہ نور ولی محسود کی تاریخی مخبری اور مذہبی اسناد کی منسوخی اس کی جعلی شناخت اور بیرونی ایجنڈے پر عمل کے ثبوت ہیں

February 10, 2026

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حوالے سے سنسنی خیز تاریخی حقائق اور اس کی مذہبی اسناد کی منسوخی سامنے آئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق نور ولی محسود کے دادا برطانوی راج کے دوران انگریز فوج کے لیے مخبر کے طور پر کام کرتے تھے اور اپنے ہی قبیلے (محسود) کے افراد کی معلومات فراہم کرنے کے بدلے گورا سرکار سے مراعات اور وظیفہ حاصل کرتے رہے۔ ان خدمات کے بدلے انہیں جنوبی وزیرستان میں ایک بڑا مکان بھی تحفے میں دیا گیا۔

تاریخی پس منظر اور مخبری کی یہ داستان واضح کرتی ہے کہ نور ولی محسود کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کی جڑیں محض ذاتی مفاد اور بیرونی ایجنڈوں سے منسلک ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ مذہبی اور عسکری لبادہ اوڑھ کر اپنے ہی معاشرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

کراچی کے معروف دینی ادارے ‘جامعہ دارالعلوم یسین القرآن’ نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ ادارے کے مطابق مذکورہ شخص کا جامعہ سے کوئی تعلق نہیں اور اگر اس کے نام سے کوئی سند جاری کی گئی تھی تو اسے فوری طور پر منسوخ تصور کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق نور ولی محسود، جسے 1,800 سے زائد علمائے کرام پہلے ہی ‘خارجی’ قرار دے چکے ہیں، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر بیرونی ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔ یہ انکشافات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ایک ‘جعلی مفتی’ ہے بلکہ اس کی جڑیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف مخبری کرنے والی تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں، جس کا مقصد محض ذاتی مفاد اور انتشار پھیلانا ہے۔

ماہرین کے مطابق نور ولی محسود کی قیادت میں کالعدم گروہ کی سرگرمیاں قومی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ سکیورٹی ادارے مسلسل ان کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ ان کے متعدد نیٹ ورک پہلے ہی ناکارہ بنائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان کی سرگرمیوں کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں امن کو متاثر کریں گی بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

اختر مینگل کے حالیہ بیانات اور بی ایل اے کے پس منظر میں بلوچستان میں سیاسی مفاد پرستی اور ذاتی محرومی کی عکاسی سامنے آئی، جہاں عوامی مسائل کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے

February 10, 2026

ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر کمال خرازی نے مسقط میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کو مثبت قرار دیتے ہوئے سفارتی عمل کے تسلسل کی امید ظاہر کی ہے

February 10, 2026

کانفرنس میں علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اظہارِ رائے بعض اوقات محدود اور دوہرے معیار کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر سوالات کو دبایا جاتا ہے

February 10, 2026

چین کے لیے ترکستان اسلامک پارٹی خاص تشویش کا باعث ہے، جو شامی جنگ کا تجربہ رکھنے والا ایغور عسکری نیٹ ورک ہے اور جسے بیجنگ سنکیانگ کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، حالانکہ چین کی افغانستان کے ساتھ سرحد محض 76 کلومیٹر ہے۔

February 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *