بنگلہ دیش اس وقت اپنی سیاسی اور قومی زندگی کے ایک نئے اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ملک کی سیاست کے افق پر ایک نیا سورج طلوع ہونے والا ہے، جس کے لیے قوم کے ہر طبقے نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ آنے والے چند دن بنگلہ دیش کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ ایک طرف تیرہویں قومی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، تو دوسری جانب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بنگالی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ کس کے حق میں سناتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں خطے کی طاقتور قوتیں، بالخصوص بھارت، ان انتخابات پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔
12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کہ اس بار بنگلہ دیش کی سیاست محض دو بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک وسیع تر سیاسی معرکے میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں مختلف اتحاد، نظریات اور سیاسی دھارے آمنے سامنے ہیں۔ عوامی لیگ کے پندرہ سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے نے جہاں ظلم و جبر کی طویل سیاہ رات کا اختتام کیا، وہیں دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے سیاست کے نئے امکانات اور راستے بھی کھول دیے ہیں۔
ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 90 فیصد سے زائد رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ملک بھر کے 127 ملین سے زائد ووٹرز 300 نشستوں پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر کے بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ بہت سے مبصرین ان انتخابات کو 1971 کے بعد سب سے اہم قرار دے رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ جون 2024 میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی وہ تحریک ہے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب امیدوار انتخابات کو محض سیاسی یا معاشی استحکام سے جوڑنے کے بجائے ایک “حقیقی بنگلہ دیش” کے تصور کے ساتھ پیش کر رہے ہیں، جو بھارتی اثر و رسوخ سے آزاد ہو۔
سیاسی منظرنامے میں سب سے بڑا مقابلہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان متوقع ہے۔ بی این پی کی قیادت ماضی میں خالدہ ضیاء کے ہاتھ میں رہی، تاہم ان کے انتقال کے بعد اب پارٹی کی باگ ڈور ان کے صاحبزادے طارق رحمان سنبھال چکے ہیں۔ بی این پی نے ایک نسبتاً پروگریسو منشور پیش کیا ہے، جس میں نوجوانوں کے لیے ایک کروڑ ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ شامل ہے۔ پارلیمنٹ کی 300 نشستوں میں سے بی این پی نے 200 سے زائد پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
طارق رحمان کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں نمایاں شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے، تاہم جس اعتماد کے ساتھ بی این پی فتح کا دعویٰ کر رہی ہے، اس کے مقابلے میں عوامی جوش و خروش نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے۔ مختلف رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بی این پی اور جماعتِ اسلامی میں سخت مقابلہ ہے، بعض جائزوں میں بی این پی کو معمولی برتری حاصل ہے، مگر فرق نہایت کم ہے۔ اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بی این پی کو کمیونسٹ لابی، ہندو برادری کے طاقتور حلقوں، عوامی لیگ کے بعض حامی عناصر، این جی اوز، میڈیا کے کچھ فعال حصوں اور بھارتی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کی حمایت حاصل دکھائی دیتی ہے۔
اس کے برعکس جماعتِ اسلامی نے انصاف، اتحاد اور ایمانداری کو اپنے انتخابی منشور کی بنیاد بنایا ہے۔ جماعت ایک ایسے بنگلہ دیش کا تصور پیش کر رہی ہے جہاں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، انہیں تحفظ اور خودمختاری حاصل ہو، اور وہ کارپوریٹ اور سیاسی میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ جماعت کے منشور میں بدعنوانی، فسطائیت اور بھتہ خوری کے خاتمے، آزاد عدلیہ اور شفاف حکمرانی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
ان انتخابات میں کل 127.7 ملین ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں، جن میں سے تقریباً 56 ملین ووٹرز کی عمریں 18 سے 37 سال کے درمیان ہیں۔ یہ نوجوان ووٹرز، جو کل ووٹرز کا تقریباً 44 فیصد بنتے ہیں، جولائی انقلاب کے اصل محرک تھے اور اب یہی “جنریشن زیڈ” انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹرز میں مردوں کی تعداد 50.76 فیصد، خواتین کی 49.24 فیصد اور تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کی تعداد 1,234 ہے، جبکہ 122 ممالک میں مقیم 7 لاکھ سے زائد تارکینِ وطن بھی ووٹنگ کے اہل ہیں۔
بنگلہ دیش اس وقت آٹھ انتظامی ڈویژنز پر مشتمل ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کی پوزیشن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ 9 فروری 2026 کو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لاء اینڈ ڈپلومیسی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق جماعتِ اسلامی کی قیادت میں اتحاد کو 105 نشستوں پر یقینی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ دیگر جماعتیں اور اتحاد 19 نشستوں پر کامیاب دکھائی دیتے ہیں، جب کہ 75 نشستیں ایسی ہیں جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ یہ سروے 21 جنوری سے 5 فروری کے درمیان 300 حلقوں میں 63 ہزار سے زائد ووٹرز کی رائے پر مبنی ہے، جس میں 92 فیصد افراد نے ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اگرچہ قوم کا فیصلہ کل واضح ہو جائے گا، تاہم جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان میں سب سے نمایاں بدعنوانی ہے، کیونکہ حسینہ دور میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، جس نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ مہنگائی اور کمزور معیشت بھی نئی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گی، خصوصاً اس تناظر میں کہ عالمی بینک بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کی شرح کم کر چکا ہے۔
ملک بھر میں انتخابی مہم اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اس دوران تاریخی گہماگہمی دیکھنے میں آئی۔ انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہزاروں افراد ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش آج اپنی تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 12 فروری کو ڈھاکہ سے ایک نئی اور حقیقی آزادی کا سفر شروع ہوتا ہے یا بنگال ایک بار پھر اسی پرانے راستے پر چل پڑتا ہے، جس سے نجات کا عہد اس قوم کے نوجوان پہلے ہی کر چکے ہیں۔