امریکہ اور ایران کے مابین جوہری مذاکرات میں سست روی کے باوجود واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ نے ایران پر سفارتی و عسکری دباؤ برقرار رکھنے کے لیے خطے میں دوسرے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جنگی بیڑے ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کیریئر اسٹرائیک گروپ‘ کو فوری روانگی کے لیے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ نیوکلیئر طاقت سے چلنے والا یہ سپر کیریئر اس وقت ورجینیا کے ساحل کے قریب تربیتی مشقوں میں مصروف ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس کے تربیتی شیڈول کو مختصر کر کے آئندہ دو ہفتوں میں اس کی روانگی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب بحیرہ عرب میں پہلے ہی ’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سال بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ دو امریکی سپر کیریئرز بیک وقت خطے میں آپریشنل ہوں گے، جسے تہران کے لیے ایک دو ٹوک عسکری پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان کشیدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ‘نِمِٹز کلاس’ کا یہ جدید ترین بحری جہاز، جو ہزاروں اہلکاروں اور جدید ترین اسلحے سے لیس ہے، خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔