رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 4.5 فیصد کا مستحکم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان برآمدات سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 4.638 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.438 ارب ڈالر تھی۔
تزویراتی لحاظ سے پاکستان کی اس کامیابی میں جی ایس پی پلس درجہ بندی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں میں مسابقتی برتری حاصل رہی۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی یورپ کو برآمدات میں 9 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں اسپین اور اٹلی کو ہونے والی برآمدات بالترتیب 11.35 فیصد اور 7.51 فیصد کی شرح سے بڑھیں۔
مشرقی یورپ کی مارکیٹ میں پاکستان کی رسائی میں غیر معمولی بہتری آئی ہے، جہاں برآمدات میں 10 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح شمالی یورپ میں بھی 5 فیصد کے قریب مستحکم گروتھ دیکھی گئی، جبکہ مغربی یورپ جس میں جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز شامل ہیں، بدستور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
دوسری جانب علاقائی سطح پر بھارت اور یورپی یونین کے حالیہ تجارتی معاہدوں نے پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مقابلے کی فضا کو مزید سخت کر دیا ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت تجارتی تعلقات کو مزید پختہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حال ہی میں وزیرِ خارجہ اسحق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے وزارتی سطح کے اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کے تمام جائزوں کو کامیابی سے مکمل کر کے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا ثبوت دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو ہونے والی برآمدات میں معمولی کمی کے باوجود، یورپی یونین کی دیگر ریاستوں میں مضبوط طلب نے پاکستان کے مجموعی برآمدی حجم کو سہارا دیا ہے۔ پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کا محور اب ان منڈیوں میں تنوع پیدا کرنا ہے تاکہ عالمی سطح پر ایک مستحکم اور بااثر تجارتی فریق کے طور پر اپنا لوہا منوایا جا سکے۔