سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی صحت، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہونے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 16 فروری تک ایک آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل یہ بورڈ سابق وزیراعظم کا مکمل طبی معائنہ کر کے رپورٹ پیش کرے۔ اس کے ساتھ ہی، انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، عدالت نے جیل حکام کو حکم دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا ان کے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ قیدی کے بنیادی قانونی اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں “وی وی آئی پی” طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں روزانہ کی بنیاد پر وائٹلز کی چیکنگ اور سردی سے بچاؤ کے لیے ہیٹر کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور انہیں اپنی پسند کے کسی بھی اسپتال میں ماہرانہ علاج کروانے کی مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ انصاف اور صحت کے معاملات سیاسی تقسیم سے بالاتر رہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حساس وقت میں پاکستان تحریک انصاف کو بھی سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور محض طبی نوعیت کے معاملات یا معمول کی جیل کی سہولیات کو کسی “سازش” سے جوڑنے کے بجائے حقائق پر توجہ دینی چاہیے۔ اب جبکہ عدالت نے آزاد میڈیکل بورڈ کے ذریعے تمام شکوک و شبہات دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ ضروری ہے کہ تمام فریقین اسے انسانی ہمدردی اور قانون کی نظر سے دیکھیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی قیدی، خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اس کی صحت اور بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور عدالتی عمل مکمل طور پر شفاف رہے۔