تحریک طالبان پاکستان کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تحریک کے نائب امیر مفتی برجان نے اپنی صفوں سے علیحدگی اختیار کرنے والے اور متوازی نظام قائم کرنے والے گروہوں کے خلاف ‘قتل کا حکم’ جاری کرتے ہوئے انہیں جہاد کے راستے میں رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔
افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اپنے جنگجوؤں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی برجان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت نے ایک نیا فتویٰ جاری کیا ہے، جس کے تحت تنظیم کے نظم و ضبط سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے گروہ کے ساتھ کام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی متوازی نظام قائم کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔
مفتی برجان نے اپنے خطاب میں ‘جماعت الاحرار’ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ‘فسادی’ گروہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جماعت الاحرار نے قبائلی علاقوں میں فساد پھیلایا ہے اور اب وہ ان کے نام نہاد جہاد کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، لہٰذا ان کا قتل شرعی طور پر روا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی ٹی پی اس سے قبل القاعدہ برصغیر کے خلاف بھی اسی نوعیت کا فتویٰ جاری کر چکی ہے۔
ٹی ٹی پی کے نائب امیر نے یہ لرزہ خیز انکشاف بھی کیا کہ حال ہی میں حافظ گل بہادر گروپ میں شامل ہونے والے متعدد افراد کو تنظیم کی جانب سے عبرت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے جنگجوؤں کو متنبہ کیا کہ کسی بھی قسم کی علیحدہ سرگرمی یا الگ ڈھانچہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ یہ حالیہ فتویٰ اور بیانات تنظیم کے اندر بڑھتے ہوئے شدید انتشار اور مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان وسائل اور اثر و رسوخ کی جنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال باجوڑ اور سوات جیسے علاقوں سے نئے گروپس کی جماعت الاحرار میں شمولیت کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے لیے بقا کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
دیکھیے: افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد