"> ٹی ٹی پی کا منحرف ارکان کو قتل کرنے کا حکم
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

داخلی انتشار یا بقا کی جنگ؟ ٹی ٹی پی کا منحرف ارکان کو قتل کرنے کا حکم

تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مفتی برجان نے جماعت الاحرار کو ‘فسادی’ قرار دیتے ہوئے منحرف ارکان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوازی نظام قائم کرنے والے جہاد کے راستے میں رکاوٹ ہیں
تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر مفتی برجان نے جماعت الاحرار کو 'فسادی' قرار دیتے ہوئے منحرف ارکان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوازی نظام قائم کرنے والے جہاد کے راستے میں رکاوٹ ہیں

ٹی ٹی پی قیادت کا سخت ترین فیصلہ؛ جماعت الاحرار اور دیگر گروہوں میں شامل ہونے والے ارکان کے لیے سزائے موت کا حکم۔ مفتی برجان نے کنڑ میں خطاب کے دوران حافظ گل بہادر گروپ میں شامل ہونے والوں کے قتل کا اعتراف بھی کر لیا

February 16, 2026

تحریک طالبان پاکستان کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تحریک کے نائب امیر مفتی برجان نے اپنی صفوں سے علیحدگی اختیار کرنے والے اور متوازی نظام قائم کرنے والے گروہوں کے خلاف ‘قتل کا حکم’ جاری کرتے ہوئے انہیں جہاد کے راستے میں رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ کنڑ میں اپنے جنگجوؤں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی برجان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت نے ایک نیا فتویٰ جاری کیا ہے، جس کے تحت تنظیم کے نظم و ضبط سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے گروہ کے ساتھ کام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی متوازی نظام قائم کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔

مفتی برجان نے اپنے خطاب میں ‘جماعت الاحرار’ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ‘فسادی’ گروہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جماعت الاحرار نے قبائلی علاقوں میں فساد پھیلایا ہے اور اب وہ ان کے نام نہاد جہاد کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، لہٰذا ان کا قتل شرعی طور پر روا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی ٹی پی اس سے قبل القاعدہ برصغیر کے خلاف بھی اسی نوعیت کا فتویٰ جاری کر چکی ہے۔

ٹی ٹی پی کے نائب امیر نے یہ لرزہ خیز انکشاف بھی کیا کہ حال ہی میں حافظ گل بہادر گروپ میں شامل ہونے والے متعدد افراد کو تنظیم کی جانب سے عبرت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے جنگجوؤں کو متنبہ کیا کہ کسی بھی قسم کی علیحدہ سرگرمی یا الگ ڈھانچہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ یہ حالیہ فتویٰ اور بیانات تنظیم کے اندر بڑھتے ہوئے شدید انتشار اور مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان وسائل اور اثر و رسوخ کی جنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال باجوڑ اور سوات جیسے علاقوں سے نئے گروپس کی جماعت الاحرار میں شمولیت کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے لیے بقا کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

دیکھیے: افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *