اسلام آباد: افغانستان کے لیے چین کے خصوصی نمائندے نے وزارتِ خارجہ میں پاکستانی وفد اور اعلیٰ سفارت کاروں سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور تزویراتی چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ تزویراتی ذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے علاقائی امن پر پڑنے والے اثرات کو بنیادی موضوعِ گفتگو بنایا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کے لیے امن و امان کا قیام ناگزیر ہے۔
تفصیلی گفتگو
ملاقات کے دوران افغان سرزمین سے جنم لینے والے سکیورٹی خطرات کا خاص طور پر احاطہ کیا گیا۔ دونوں وفود نے افغانستان سے آپریٹ کرنے والی کالعدم تنظیموں، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستانی اور چینی حکام نے اتفاق کیا کہ ان تنظیموں کی جانب سے سرحد پار کاروائیاں اور محفوظ پناہ گاہیں نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مستقل اور سنگین خطرہ بن چکی ہیں، جن کا سدِباب ضروری ہے۔
مشترکہ حکمتِ عملی
دونوں فریقین نے خطے میں امن و استحکام کے تحفظ اور دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مذاکرات میں طویل مشاورت کے بعد اتفاق کیا گیا کہ پاک چین سیکیورٹی تعاون کو بڑھایا جائے گا اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس تزویراتی ہم آہنگی کا مقصد مشترکہ خطرات کے خلاف ایک مؤثر اور مربوط ردِعمل تیار کرنا ہے تاکہ خطے کے پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
دیکھیے: ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک