"> عمران خان کی آنکھوں کے علاج میں پیش رفت
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عمران خان کی آنکھوں کے علاج میں پیش رفت، حکومتی حلقوں کی احتجاجی سیاست پر تنقید

حکام کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے طبی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
عمران خان کی آنکھوں کے علاج میں پیش رفت، حکومتی حلقوں کی احتجاجی سیاست پر تنقید

ذرائع کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے علاج کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے “15 فیصد بینائی” کو غیر ضروری طور پر نمایاں کیا گیا، حالانکہ یہ جاری علاج اور بتدریج بہتری کے تناظر میں بتایا گیا تھا۔

February 16, 2026

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومت نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق بروقت اور مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق جیل انتظامیہ نے طے شدہ ضوابط کے تحت فوری اور مؤثر اقدامات کیے، جبکہ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹس میں بھی طبی معائنے کی تفصیلات کی تصدیق کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے علاج کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے “15 فیصد بینائی” کو غیر ضروری طور پر نمایاں کیا گیا، حالانکہ یہ جاری علاج اور بتدریج بہتری کے تناظر میں بتایا گیا تھا۔ گزشتہ روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور الشفا انٹرنیشنل کے ماہرینِ امراضِ چشم نے جیل میں تفصیلی معائنہ کیا اور صحت میں نمایاں بہتری کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق مستقل نقصان سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، جبکہ پارٹی قیادت اور ذاتی معالجین کو بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق چیک اپ کے موقع پر پارٹی قیادت کو مدعو کیا گیا تھا تاہم کوئی نمائندہ شریک نہ ہوا۔ ذرائع نے اسے جماعت کے اندرونی معاملات سے جوڑا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے احتجاجی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی بندش اور روزمرہ معمولات میں خلل سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو عوامی خدمت اور گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے طبی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے اور متعلقہ ادارے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

دیکھیے: پاکستانی کرکٹ کا بحران: محض شکست نہیں، بلکہ نظام کا زوال

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *