"> فساد فی الارض: معصوم جانوں کے خلاف تشدد اسلام کی تعلیمات کے منافی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فساد فی الارض: معصوم جانوں کے خلاف تشدد اسلام کی تعلیمات کے منافی

فساد فی الارض: معصوم جانوں کے خلاف تشدد اسلام کی تعلیمات کے منافی

علمائے کرام کے مطابق اسلام واضح طور پر بے گناہ افراد کے قتل کو حرام قرار دیتا ہے۔ خودکش حملے، بازاروں، مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر تشدد کے واقعات کو دین کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکت

February 16, 2026

حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں مذہبی و سماجی حلقوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانیت کے خلاف جرم ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ اسلامی فقہ میں “فساد فی الارض” اُس شدید بگاڑ اور تباہی کو کہا جاتا ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دے، ایسا تشدد جو صرف جانیں ہی نہیں لیتا بلکہ خوف، بے یقینی اور معاشی تباہی کو بھی جنم دیتا ہے۔

علمائے کرام کے مطابق اسلام واضح طور پر بے گناہ افراد کے قتل کو حرام قرار دیتا ہے۔ خودکش حملے، بازاروں، مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر تشدد کے واقعات کو دین کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اعمال دراصل دین کے خلاف جرائم ہیں اور انہیں کسی صورت مذہبی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق شدت پسند عناصر اپنے اقدامات کے ذریعے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے واقعات کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں، خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور سماجی ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خود کو مسلمان کہنے کے باوجود بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کھلا تضاد ہے جو اسلام کی اصل روح—امن، عدل اور رحم—سے انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔

علمائے دین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسندی کے بیانیے کو مسترد کریں اور نوجوان نسل کو صحیح دینی تعلیمات سے روشناس کرائیں تاکہ معاشرے کو فساد اور انتشار سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق پائیدار امن کے لیے ریاست، مذہبی قیادت اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

دیکھیے: اے ایف ایف کا مسلسل تیسرا حملہ، 4 طالبان ہلاک و زخمی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *