بھارت کی خارجہ پالیسی میں موقع پرستی و مفاد پرپستی کا ایک نیا باب اس وقت رقم ہوا جب نئی دہلی نے اپنے ایران کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعلقات کو ایک ہی جھٹکے میں قربان کر دیا۔ ایران سے منسلک تین آئل ٹینکرز کی ضبطگی نے عالمی سطح پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی دوستی فقط زبانی کلامی ہے اور اس کے وعدے ریت کی دیوار کی مانند ہیں۔
بھارت نے طویل عرصے تک ایران کو چابہار بندرگاہ میں بڑی سرمایہ کاری کے سبز باغ دکھائے اور خود کو ایک مخلص علاقائی دوست کے طور پر پیش کیا۔ تاہم اب یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ بھارت کا اصل مقصد ایران کی معاشی ترقی نہیں بلکہ چابہار کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری کے لیے استعمال کرنا تھا۔ بھارت نے چابہار کو بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والے نیٹ ورکس کا ‘خفیہ مرکز’ بنایا تاکہ پاک۔ ایران برادرانہ تعلقات کو متاثر کیا جا سکے۔ ایران اب یہ تلخ حقیقت جان چکا ہے کہ جس بندرگاہ کو وہ معاشی شہ رگ سمجھ رہا تھا، بھارت اسے خطے میں عدمِ استحکام کے لیے استعمال کرتا رہا۔
مفاد پرستی
واشنگٹن سے آنے والی فقط ایک فون کال نے مودی سرکار کے ‘خود مختار خارجہ پالیسی’ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں بھارتی قیادت کا قد اس قدر چھوٹا ہو چکا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی وعدوں سے دستبردار ہونے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ امریکہ کی جانب سے بھارتی اشیا پر درآمدی محصولات میں رعایت کے بدلے مودی نے نہ صرف روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی بلکہ ایران کے معاشی مفادات پر شب خون مارنے کا حکم بھی صادر کر دیا۔ ایران سے منسلک ٹینکرز پر قبضہ دراصل واشنگٹن کے سامنے بھارت کی ‘سیاسی فرماں برداری’ کا عملی ثبوت ہے۔
بھارت اسرائیل سے گٹھ جوڑ
بھارت کی منافقت صرف معاشی محاذ تک محدود نہیں بلکہ اس نے ایران کے داخلی معاملات میں بھی اسرائیل (موساد) کے آلہ کار کے طور پر کام کیا ہے۔ ایران میں 121 بھارتی جاسوسوں کی گرفتاری، جو موساد کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ اسرائیل۔ ایران کشیدگی میں بھارت کا کردار ایک ایسے مہرے کا رہا ہے جو تہران کی میز پر کھانا کھاتا تھا مگر اس کی معلومات دشمنوں کو فراہم کرتا تھا۔
ہندو کبھی قابلِ اعتبار نہیں
ایران کے لیے اب یہ واضح سبق ہے کہ بھارت صرف اور صرف طاقت اور سودے بازی کی زبان سمجھتا ہے۔ 500 بلین ڈالر کی امریکی درآمدات کی یقین دہانی اور ایران کے جہازوں کی ضبطگی اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اپنی غیرت اور علاقائی وقار کا سودا کر چکا ہے۔ تہران کو اب یہ سمجھنا ہو گا کہ جس ملک کے جاسوس ان کی سرزمین پر تخریب کاری کریں اور جس کا لیڈر واشنگٹن کے دباؤ پر اپنے محسنوں کو گرفتار کر لے، وہ کبھی برادر اور اتحادی ملک کہلانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔
بھارت کے اس نوعیت کے اقدامات خطے میں اس کی ساکھ کو زمین بوس کر چکے ہیں۔ ایک جانب ایران سے غداری اور دوسری جانب امریکہ کے سامنے سجدہ ریزی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اصولوں پر نہیں بلکہ مفاد پرستی اور ‘خوف’ پر مبنی ہے۔ ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات ان ضبط کیے گئے جہازوں اور گرفتار جاسوسوں کے بوجھ تلے ہمیشہ کے لیے دب چکے ہیں۔